معیشت کا پہیہ نہیں چل رہا ،آئی ایم ایف نے پاکستان سے ناانصافی کی ،وزیرخزانہ

129

اسلام آباد( نمائندہ جسارت) وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہاہے کہ معیشت کا پہیہ نہیں چل رہا، آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ ناانصافی کی۔پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں شوکت ترین بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے شرکا کو بتایا کہ بجلی کی قیمت میں اضافے کے حوالے سے آئی ایم ایف کا مطالبہ نا جائز ہے، آئی ایم ایف کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ٹیرف بڑھانے سے کرپشن بڑھ رہی ہے اورمہنگائی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، آئی ایم ایف سے کہا کہ گردشی قرضہ کم کریں گے لیکن ٹیرف بڑھانا سمجھ سے باہر ہے۔وفاقی وزیرخزانہ کا کہنا تھاکہ جی ڈی پی گروتھ 5 فیصد تک نہ لے کر گئے تو 4 سال تک ملک کا اللہ حافظ ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ بجلی ٹیرف پر بات کرنا انتہائی ضروری ہے، 2 ماہ سے محصولات میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم معیشت کی بحالی اور استحکام کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔شوکت ترین کے بقول نئے ٹیکسز کے بجائے ٹیکس نیٹ بڑھانے کی ضرورت ہے، ہمارے ملک میں شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم معاشی پالیسی نہیں جبکہ چین، ترکی اور بھارت نے معاشی پالیسیوں میں تسلسل رکھا۔ان کا کہنا تھاکہ زراعت، صنعت، پرائس کنٹرول، ہاؤسنگ سیکٹر میں بہتری کی ضرورت ہے، صرف 0.25 فیصد ہاؤسنگ مارگیج ہے، ہاؤسنگ سیکٹر کی بحالی سے 20 دوسری صنعتوں کا پہیہ چلے گا، تمام صوبوں کے محاصل کا 85 فیصد 9 بڑے شہروں پر خرچ ہوتا ہے۔وزیرخزانہ نے یہ بھی کہا کہ حکومت جن اداروں کو نہیں چلا سکتی ان کی نجکاری کر دی جائے گی، صحت اور تعلیم کے لیے بہت کم خرچ کیا جاتا ہے۔اجلاس کے دوران کمیٹی رکن رمیش کمار نے کہا کہ شوکت عزیز سے اب تک جتنے وزیر خزانہ آئے معیشت کو استحکام نہ دلوا سکے، جس پر وزیر خزانہ بولے پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتا ہوں لیکن آپ مجھے نہ بتائیں کہ کیا منصوبیبنانے ہیں، میں نے آئی ایم ایف سے بہتر انداز میں مذاکرات کیے اور میرے دور میں این ایف سی ہوا۔بعدازاں میڈیا سے گفتگو میں شوکت ترین کا کہنا تھاکہ اس وقت دیکھنا چاہیے کہ آئی ایم ایف سے کیا ریلیف مل سکتا ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے، مہنگائی کو قابو کرنے کے اقدامات کررہے ہیں۔علاوہ ازیں وفاقی وزیرخزانہ نے نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو رعایتی نرخوں پر گندم کی یومیہ ریلیز یقینی بنانے،ضروری اشیاکی قیمتوں کی کڑی نگرانی اورضروری اشیا کی وافرمقدارمیں فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ شوکت ترین نے عیدالفطرکی آمدکے تناظرمیں رمضان کے آخری ہفتہ میں ناجائز منافع خوری اورقیمتوں میں غیرضروری اضافہ کی روک تھام کی کڑی نگرانی اورمربوط کوششوں کی ہدایت بھی کی ہے۔