قرون وسطی میں کینسر مرض سابقہ تخمینوں سے بھی کہیں زیادہ تھا، تحقیق

289

کینسر ایک جدید طبی مسئلے کی طرح لگتا ہے لیکن نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ اس نے قرون وسطی میں برطانیہ کے 14٪ بالغ افراد کو متاثر کیا۔

عہد وسطی کی زندگی کے مطالعے کے طور پر یونیورسٹی آف کیمبرج کے محققین نے انسانی ہڈیوں کے کنکال کے اندر موجود کینسر کے شواہد کی تلاش کے لئے ایکس رے اور سی ٹی اسکینوں کا استعمال کیا۔ تفتیش کاروں کو اس میں کینسر کی شرح اس سے 10 گنا زیادہ ملی ہے جو اس سے قبل صرف ہڈیوں کے خارجی عضو کے زخموں کی جانچ پڑتال کے ذریعے دریافت کی گئی تھی۔

مطالعہ کے لئے محققین نے قبرستان سے چھٹی سے سولہویں صدی تک کے 143 کنکالوں کا تجزیہ کیا۔ جن میں سے 96 مرد ، 46 خواتین کے کنکال تھے۔

مطالعہ کی شریک مصنف جینا دتمار نے کہا ، “سی ٹی اسکینوں کا استعمال کرتے ہوئے ہم کینسر کے خلیوں اور اجزاء کو ہڈی کے اندر چھپا ہوا دیکھ سکتے ہیں جو باہر سے بظاہر بالکل ٹھیک دکھائی دے رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک یہ خیال کیا جاتا تھا کہ قرون وسطی کے لوگوں میں صحت کی خرابی کی سب سے اہم وجوہات انتشار، طاعون جیسی متعدی بیماریاں ، اس غذائیت کی خرابی ، حادثات اور جنگ کا نتیجہ تھیں تاہم کینسر بھی اہم وجوہات میں شامل تھا۔