مودی کی نااہلی ہزاروں بھارتیوں کی موت بن گئی

214

بزرگوں سے سنا تھا کہ اگلے وقتوں میں جب ٹیلی گرام یا تار آتا تھا، تو پورا گھر تذبذب میں مبتلا ہوتا تھا کہ پتا نہیں کس طرح کی خبر آ گئی ہے۔ پچھلے دو ہفتوں سے بھارت میں بھی ہمیں فون یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو دیکھتے ہی خوف محسوس ہونے لگتا ہے۔ جب بھی یہ فون بجتا ہے تو کسی دوست یا کسی قریبی کی رحلت یا کسی اسپتال میں داخل ہونے کی خبر موصول ہوتی ہے۔ ہر شخص کا کوئی نہ کوئی جاننے ولا اس وقت دہلی کے مختلف اسپتالوں میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ سوشل میڈیا پر کوئی آکسیجن، کوئی ریمیڈسور دوائی کے لیے دُہائی دے رہا ہے، تو کسی کو وسائل کے باوجود اسپتال میں بستر نہیں مل رہا۔ بے بسی کے اس عالم میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ لگتا ہے کہ دارالحکومت دہلی سمیت پورے بھارت کے عوام کو لاچار اور بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔
اس افراتفری اور نفسانفسی کے عالم میں اُمید تھی کہ وزیراعظم نریندر مودی قوم کو دلاسا دے کر کورونا وائرس کو شکست دینے کے کسی جامع پروگرام کا اعلان کریں گے، مگر افسوس کہ یہ امیدیں اس وقت ہوا ہو گئیں، جب انہوں نے الم ناک تباہی اور بربادی کی پوری ذمے داری عوام اور صوبائی حکومتوں پر تھوپ دی۔ عوام کو صبر و تحمل کی تلقین کی اور لاک ڈاؤن کا فیصلہ صوبائی حکومتوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا۔ پچھلے سال جب کورونا کے محض چند ہی کیس رپورٹ ہوئے تھے، تو انہوں نے بغیر سوچے سمجھے، بغیر نتائج کی پروا کیے اچانک لاک ڈاؤن کا اعلان کر کے پورے ملک کا پہیہ جام کر دیا تھا اور تب پوری دنیا نے دیکھا تھا کہ کس طرح لاکھوں یومیہ مزدور سڑکوں پر آ گئے تھے۔ بمع اہل و عیال اور شیر خوار بچوں کو گود میں اٹھائے، پولیس کی لاٹھیوں سے بچتے بچاتے وہ سیکڑوں میل کا فاصلہ طے کر کے دیہاتوں میں اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔ شہروں میں اچانک لاک ڈاؤن سے لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے جب کہ بڑی تعداد میں لوگ کورونا کے بغیر ہی اس اچانک فیصلے کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اس وقت جب کورونا کی دوسری لہر نے پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، تو اسپتالوں اور سڑکوں پر دردناک مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ لاک ڈاؤن کو آخری حربے کے طور پر استعمال کریں۔ اب ان سے کون پوچھے کہ پچھلے سال جب کورونا کے کچھ سو کیس بھی نہیں تھے، تو اس وقت انہوں نے خود ٹی وی پر آ کر اچانک لاک ڈاؤں کیوں کروایا؟ اب اس وقت ملک میں ایک کروڑ 73 لاکھ سے زائد کیس رپورٹ ہو ئے ہیں اور پچھلے 2 ہفتوں سے روز 3 لاکھ کیسز کا پتا چل رہا ہے، تو ایسے وقت میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کیوں نہیں لگ سکتا تھا؟
ایک سال قبل بھی اپنی تقریر میں مودی نے ہندو دیو مالائی کہانیوں کا سہارا لے کر عوام کو بہلانے کی کوشش کی تھی، مگر تقریر اعتماد اور ٹھوس اقدامات سے خالی تھی۔ جب یہ طے ہوا تھا کہ 150ضلعی اسپتالوں میں 162 آکسیجن کے پلانٹ لگائے جائیں گے تو یہ ایک سال تک کیوں پایہ تکمیل تک نہیں پہنچے؟ آخر اس وبا کے بعد بھی مارچ میں پارلیمان میں پیش کیے گئے بجٹ میں صحت عامہ کی مد میں مجموعی قومی پیداوار کا صرف ایک اعشاریہ چھبیس فیصد ہی کیوں رکھا گیا؟ اگر پچھلے سال وبا کے ابتدائی دنوں میں اسپتالوں میں آکسیجن وغیرہ کی کمی ہوتی تو اس کو معاف کیا جا سکتا تھا مگر اس وقت طبی سہولیات و آکسیجن کی کمی کے ذمے دار افراد کو مجرم ہی گردانا جائے گا۔
2017ء کی ہیلتھ پالیسی میں حکومت نے خود ہی وعدہ کیا تھا کہ صحت عامہ کے بجٹ کو مجموعی قومی پیداوار کے دو اعشاریہ سات فیصد تک لے جایا جائے گا۔ حکو مت نے یہ کارنامہ تو کر دیا کہ ہتھیار درآمد کرنے والے ممالک میں بھارت اب سعودی عرب کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے مگر کیا ہوا کہ اگر صحت عامہ میں اس کا درجہ 145واں ہے۔ پڑوسی ممالک میں سری لنکا اور بنگلا دیش فہرست میں بالترتیب 71 اور 133 ویں نمبر پر موجود ہیں، چین تو 48ویں نمبر پر ہے، جس کے مقابلے کے لیے ویکسین سفارت کاری شروع کی گئی تھی۔ اس کوشش میں جنوری سے لے کر مارچ تک ساڑھے 6 کروڑ ویکسین کی خوراکیں، 10 لاکھ ریمیڈسور کے انجکشن، 9 ہزار 300 میٹرک ٹن آکسیجن اور 2 کروڑ ٹیسٹنگ کٹ برآمد کی گئیں۔ ان سب کی قیمت اب عوام کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔
لاک ڈاؤن میں اس لیے بھی لیت و لعل سے کام لیا گیا کیوں کہ 5 صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا اعلان کیا گیا اور تمام پروٹوکول کو بالائے طاق رکھ کر سیاست دانوں بشمول وزیر اعظم اور ان کے دست راست وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایس او پیز اور دیگر ضوابط کی کھلے عام دھجیاں اڑا دیں۔ مودی صاحب تو عوامی جلسوں میں ہجوم کو دیکھ کر پھولے نہیں سما رہے تھے۔ اتراکھنڈ کے شہر ہری دوار میں کمبھ میلے کی اجازت دے کر باضابط طور پر کورونا وائرس کو ملک بھر میں پھیلنے کی دعوت دی گئی۔ اس میلے میں ایک اندازے کے مطابق 46 لاکھ افراد شریک تھے۔ گو کہ اس میلے کو وقت سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا تھا مگر وائرس نے اپنا کام کر دیا تھا اور تمام شرکا اس جان لیوا وائرس کو پھیلانے کا باعث بن گئے۔ نتیجتاً چند ہی روز میں اس شہر میں تقریباً 2 ہزار کورونا کیسز کا پتا چلا۔ گو کہ پورے ہجوم کا ٹیسٹ کرنا ممکن نہیں تھا اور اب یہ پورا ہجوم بھارت کے طول و عرض میں پھیل چکا ہے۔ خود وزیر اعلیٰ تیرتھ سنگھ راوت، جو چند روز قبل تک زیادہ سے زیادہ زائرین کو ہری دوار پہنچے کے لیے اکسا رہے تھے، خود بھی کورونا کا شکار ہو گئے۔
جو افراد اس میلے کے انتظام و انصرام پر مامور تھے، وہی پچھلے سال دہلی کے نظام الدین علاقے میں بنگلا والی مسجد میں چند سو تبلیغی جماعت کے افراد کے اجتماع پر نہ صرف نفرت انگیز فقرے کس رہے تھے بلکہ ان کو کورونا جہادی اور وائرس تک کے نام سے پکارا گیا تھا اور اس پوری نفرت انگیز مہم میں حکومت نواز میڈیا نے بھی بھرپور معاونت کی تھی۔ ایسا نفرت بھرا ماحول تیار کیا گیا تھا کہ دہلی کی بیشتر کالونیوں میں مسلمانوں کا داخلہ بند کر دیا گیا تھا۔ وزیر اعظم کو دھرما اچاریہ سبھا کے سربراہ سوامی اودیشا نند سے اپیل کرنی پڑی کہ وہ اب اس میلے کا اختتام کریں۔ بھارت میں اس وقت سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2 ہزار سے زائد افراد روزانہ کورونا وبا کا شکار ہو کر موت کو گلے لگا رہے ہیں۔ ان سب کا مودی سرکار سے ایک ہی سوال ہے کہ کورونا کا شکار ہوکر جان سے ہاتھ دھونے والے ہزاروں افراد کے خون کا ذمے دار کون ہے؟ (بشکریہ: بی بی سی اُردو)