مسئلہ فلسطین اور مشرق وسطیٰ کی نازک صورتحال

213

مشرقِ وسطیٰ دنیا کا سب سے زیادہ پیچیدہ خطہ ہے، جو صدیوں سے ماہرین کےلیے دلچسپی کا باعث بنتا رہا ہے۔ آج بھی چاہے تیل کی سیاست ہو یا علاقائی تنازعات، یہاں افراتفری کی سی صورت ہی نظر آتی ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین اور سیاستدانوں کے لیے اس خطے میں تمام فریقین کی مصالحت سے مسائل کا منصفانہ حل ایک چیلنج بن چکا ہے۔
خطے کے ممالک کے اندورنی ڈھانچوں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر بیرونی طاقتیں خوب مہارت سے اپنا کھیل کھیلتی ہیں، جس سے مسائل اور الجھ جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکا کے شدت پسند سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہر قسم کے الجھاؤ کو فروغ دیا، جس کی وجہ سے بالخصوس پہلے ہی سے کچلے ہوئے فلسطینی عوام کو کچھ خلیجی ممالک کی حمایت سے نظرانداز کردیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ سابق صدر نے جس طرح ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو یکطرفہ منسوخ کیا، وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔
موجودہ امریکی صدر جوبائیڈن کو اقتدار سنبھالتے ہی مشرق وسطیٰ کے نہایت پیچیدہ معاملات کی طرف اپنی توجہ مبذول کرنی پڑی، جو واضح طور پر سابق صدر ٹرمپ سے برعکس ہے۔ آیندہ آنے والے دنوں میں توقع کی جارہی ہے کہ اس تبدیل رویے کے اثرات امریکا کی ایران، یمن، سعودی عرب اور افغانستان کے ساتھ معاملات پر پڑیں گے۔ البتہ اس سارے عمل میں کچھ داخلی اور خارجی رکاوٹیں نظر آرہی ہیں۔ جہاں تک امریکا کے داخلی عوامل کا تعلق ہے تو یہ واضح کرنا اہم ہے کہ اس وقت امریکی کانگریس، ایوان نمایندگان اور سینیٹ، دونوں میں ری پبلکن جماعت کی ایک معقول تعداد موجود ہے، جن کی جانب سے جوبائیڈن کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جو بلاشبہ مشرق وسطیٰ کے معاملے میں قدرے واضح ہے۔
سب سے پہلے ایران کی بات کرتے ہیں۔ اگرچہ ایران اور امریکا، دونوں ہی 2015ء میں کیے جانے والے جوہری توانائی کے معاہدے کی بحالی کے خواہش مند ہے، لیکن دونوں ممالک کی حکمت عملی میں اختلاف نظر آتا ہے۔ امریکا اس معاہدے کی بحالی کو مشرق وسطیٰ میں ایران کی دیگر مبینہ سرگرمیاں روکنے سے مشروط کرنا چاہ رہا ہے اور مزید یہ کہ ایران یکطرفہ طور پر اپنے جوہری پروگرام کو منجمد کردے، جبکہ ایران چاہتا ہے کہ معاہدے کو انفرادی اور تاریخی تناظر میں دیکھا جائے اور اس پر بات کرنے سے پہلے، ایران پر ٹرمپ انتظامیہ کی لگائی گئی یکطرفہ، غیر انسانی اور غیر اخلاقی پابندیوں کو فورا ہٹایا جائے۔ اس معاملے میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں دونوں ممالک کے مابین یورپی یونین کے توسط سے مذاکرات ہورہے ہیں، جس میں مثبت پیش رفت کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ ایران صدارتی انتخابات کی طرف جارہا ہے اور 2015ء کی جوہری توانائی کا منصوبہ بلاشبہ اس انتخابی مہم میں ایک اہم موضوع رہے گا۔
ایران میں بھی امریکا کی طرح کچھ سیاسی دھڑے جوہری معاہدے کی بحالی کے مخالف ہیں اور امریکا کے ماضی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس کے کردار کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ایران نے مشکل سے مشکل حالات کا بہترین سفارتکاری سے مقابلہ کیا۔ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایران نے امریکا کے جوہری معاہدے سے یک طرفہ انخلا کے بعد لگنے والی پابندیوں کے باوجود اپنے ملک کی معیشت کو ڈوبنے نہیں دیا۔
یہ قیاس آرائی کی جاسکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران، جوبائیڈن انتظامیہ کے ساتھ مل کر معاہدے کی بحالی کو کسی مثبت نتیجے پر ضرور پہنچائے گا۔ یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ معاملہ محض جوہری توانائی تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس سے ایران اور دنیا کے دوسرے ممالک بالخصوص امریکا اور یورپی یونین کے مابین معاشی و تجارتی تعلقات سمیت متعدد معاملات بھی بحال ہوں گے۔ جس کی ایک مثال 2015ء کے جوہری معاہدے کے فوری بعد ایران کا 100 مسافر، 80 بوئنگ جیٹ اور اے ٹی آر کے 40 ٹربوپروپ طیاروں کا امریکی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کا عندیہ تھا۔
سمجھنے کی ضرورت یہ ہے کہ ایران اور دیگر ممالک کے درمیان معاشی و تجارتی تعلقات کی بحالی اور خطے میں امن کو ممکن بنانے کےلیے، یہ لازم ہے کہ 2015ء کی شرائط پر امریکا سب سے پہلے تو معاہدے میں دوبارہ شامل ہو اور پھر جوہری معاہدے کو اپنی اصل شکل میں بحال کرے۔ دوسرا وہ ممالک جیسا کہ اسرائیل اور کچھ خلیجی طاقتوں کو منفی کردار ادا نہ کرنے دے۔
مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور اسرائیل امریکا کےلیے اہم حیثیت رکھتے ہیں، اسی لیے ہمیشہ اس خطے کے متعلق امریکی خارجہ پالیسی میں ان دونوں ممالک کی حیثیت اور کردار کو مدنظر رکھا جاتا رہا ہے۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں امریکا کا سعودی عرب اور اسرائیل کی طرف یک طرفہ جھکاؤ مزید بڑھ گیا تھا، لیکن صدر جوبائیڈن انسانی حقوق کی بحالی کو تعلقات بہتر ہونے کا ایک اہم جز سمجھتے ہیں۔ اس لیے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایک متوازن حکمت عملی کو نافذ کیا جائے گا۔ اسی وجہ سے سعودی عرب کی جانب امریکی رویے میں قدرے تبدیلی آئی ہے، جس کی ایک مثال امریکا کی جانب سے سعودی عرب کو اپنا ’’ایلیٹ یونٹ‘‘ بند کرنے کی ہدایت ہے، جو سعودی شہزادے محمد بن سلمان کے زیر صدارت کام کررہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا کی طرف سے اس پر یہ بھی دباؤ ہے کہ سعودی عرب اپنے اداروں میں تنظیمی اور انتظامی اصلاحات لائے، جیسے کہ آزادی صحافت، آئین، منتخب قانون ساز ادارے اور آزادانہ انتخابات کی بنیاد۔
جہاں تک یمن کا تعلق ہے تو وہاں جوبائیڈن تصادم کے خاتمے اور تمام فریقین کو ساتھ مل کر سفارت کاری سے مسائل کو حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم یمن کے زمینی حقائق اتنے پیچیدہ ہوچکے ہیں کہ ان کا حل آسان نظر نہیں آتا۔ اسی طرح شام میں بھی امریکا محض اپنی حیثیت کا احساس دلانے کے لیے ایرانی دھڑوں پر گاہے بہ گاہے حملہ کرتا نظر آتا ہے، جس کا مقصد علاقے میں اپنے ہونے کا احساس دلانے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ کے مسائل کی بات کرتے ہوئے یہ بھی ضروری ہے کی فلسطین کا مسئلہ جس پر امریکا سمیت دیگر بین الاقوامی طاقتیں بات تک نہیں کرتیں، ایک اہم معاملہ ہے، جس کا حل دو ریاستی مطالبے کو ماننے ہی میں ہے۔ عالمی خاموشی محض صورت حال میں مزید بگاڑ پیدا کررہی ہے۔ اس کا حل نکالے بغیر مشرق وسطیٰ کے دیگر مسائل کا تصفیہ بھی مشکوک رہے گا۔