اٹھو کہ زمانہ چال قیامت کی چل گیا

118

قمرالحسن
ایک مر تبہ پھر یوم مئی ایک خطر ناک وباء کے دور میں آیا ہے، جو صورتحال سال 2019 کے آخر میں شروع ہوئی تھی سال  2020 بھی اسی خراب صورتحال کے ساتھ گذرہ ہے اور 2021 میں وبائی صورتحال مزید خراب تر ہو رہی ہے، با وجود اس کے کہ دنیا بھر میں ویکسین کا استعمال شروع ہو چکا ہے مگر تا حال کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی ہے۔
دنیا کو اس وقت ایک خطر ناک کساد با زاری کا سامنا ہے، کڑوروں محنت کش اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ معاشی صورتحال خراب سے خراب تر ہو تی جا رہی ہے،دنیا بھر میں ٹریڈ یونینوں کے لیے اپنے ممبران کی ملازمتیں بچانا اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے، ایسی صورحال میں یوم مئی کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے ۔
دنیا بھر کے محنت کشوں نے اپنی جدوجہد کے ذریعے گذشتہ ایک 135 سال میں جو مرا عات حاصل کی تھیں وہ ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہیں، خواہ وہ آٹھ گھنٹے اوقات کار ہوں یا انجمن سازی و اجتماعی سودا کاری کا حق، کم از کم اجرت ہو یا پیشہ وارانہ صحت و سلامتی۔۔دنیا بھر کے مزدور ان تمام حقوق سے ہاتھ دھو رہے ہیں جبکہ سر مایہ دار انہ طاقتیں اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہی ہیں اور دولت مند مزید دولت مند ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت اور ترقی کی رپورٹ برائے 2020 میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ وباء کے باعث کفائت شعاری کے پروگراموں سے دنیا کی ترقی (گروتھ) میں سال 2030 تک ایک فیصد
کمی واقع ہو گی اور دنیا بھر میں بے روزگاری میں دو فیصد اضافہ ہو گا۔اس کے ساتھ ہی محنت کشوں کی آمدنی تین فیصد تک گھٹ جائے گی، اس کا مطلب یہ ہے کہ محنت کشوں کی آمدنی میں یہ کمی دراصل دولت مند لو گوں کی دولت میں تقریباً چالیس ٹریلین ڈالر میں اضا فہ کا باعث ہو گی، یعنی دنیا بھر کے محنت کشوں کی آمدنی پر دولت مندوں کا قبضہ ہو جائے گا، جبکہ حکومتیں اپنے کفائت شعاری کے پروگرام کے باعث عوام کی فلاح و بہبود اور سماجی تحفظ جیسے پروگرام میں کٹوتی کریں گی۔
اس صورتحال کے تناظر میں ٹریڈ یونینز کی ذمہ داریاں بڑھ جائیں گی ، ایک طرف اپنے ممبران کی ملازمتوں کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنی ہو گی اور اس کے ساتھ یہ بھی کوشش کرنی ہو گی کہ حکو متیں عوام کی فلاح و بہبود کے پروگراموں میں کٹوتی نہ کریں، ٹریڈ یونینز میں یہ بات زیر بحث ہے کہ حکومتوں کو کارپوریٹ ٹیکس اور گین ٹیکس بڑھانے ہوں گے ، اگر ایسی صورتحال بر قرار رہی ، سر مایہ دارانہ طاقتیں اپنے منافع میں اضافہ کرتی رہیں اور حکومتیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہیں تو دنیا بھر میں سماجی و معاشی انصاف ختم ہو کر رہ جائے گا، کمزور ممالک مزید کمزور ہو جائیں گے اور دنیا میں طاقت کا توازن مزید خراب ہو جائے گا جس کا سب سے بڑا شکار محنت کش طبقہ ہو گا۔
اس صورتحال میں یوم مئی یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ملک کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر ٹریڈ یونینز مشترکہ حکمت عملی بنانے کے عملی اقدامات تجویز کریں ورنہ ایک بار پھر محنت کشن 1886 سے قبل کی صور تحال سے دوچار ہو جائیں گے ، محنت کشوں کو اپنی عظمت کی بحالی کے لیے اپنے تمام تر نظریاتی، سیاسی، گروہی،لسانی اور علا قائی اختلا فات و مفادات ختم کر کے منظم،متحد ہو کر جدوجہد کرنی ہو گی اس کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں۔