شامی کیمپوں میں 25 برطانوی خواتین اور 34 بچے موجود

134
تاشقند: شام کے الہول کیمپ سے واپس لائی گئیں خواتین اور بچے طیارے سے اتررہے ہیں

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) ابھی تک ہزاروں غیر ملکی خواتین اور بچے شام کے شمال مشرقی کیمپوں بالخصوص الہول کیمپ میں بھولے پڑے ہیں۔ ان میں سے اکثر کے ممالک نے مذکور افراد کی جانب سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے اور ان کی واپسی کو سرکاری طور پر مسترد کر دیا ہے۔ یہ لوگ داعش تنظیم کے ساتھ وابستہ ہو گئے تھے۔ داعش تنظیم کے غیر ملکی ارکان کی بیویوں میں کئی خواتین کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ ان خواتین کو انسانی تجارت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بات انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ریبریف نے جمعہ کے روز بتائی۔ تنظیم کے مطابق شام کے شمال مشرق میں واقع کیمپوں میں زیر حراست برطانوی خواتین اور بچوں میں تقریباً ایک تہائی انسانی تجارت کا شکار ہیں۔ تنظیم نے ان افراد سے دست بردار ہونے پر لندن حکومت کی مذمت کی ہے اور اس تنظیم کا صدر دفتر بھی برطانیہ ہی میں ہے۔ تنظیم کی ایک تحقیق کے مطابق کیمپ میں بعض ایسی خواتین ہیں جن کی عمر شام منتقل ہونے کے وقت محض 12 سال تھی۔ یہ داعش تنظیم کے ہاتھوں مختلف نوعیت کے استیصال کا نشانہ بنیں، جس میں جنسی استیصال بھی شامل ہے۔ تنظیم کے اندازے کے مطابق علاقے میں اب بھی برطانیہ سے تعلق رکھنے والی 25 بالغ خواتین اور 34 بچے موجود ہیں۔ ان میں کم از کم 63فیصد انسانی تجارت کا شکار ہوئے۔ اس حوالے سے بچوں کو شام لے جایا گیا یا جانے پر مجبور کیا گیا۔ تنظیم کی جانب سے جاری 70 صفحات کی تفصیلی رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ برطانوی حکومت نے منظم طور پر ان افراد سے دستبرداری اختیار کی۔ اس دوران ان افراد کو برطانوی شہریت سے محروم کیا گیا۔