فلسطینی صدر نے انتخابات ملتوی کردیے ، حماس کی مذمت

159
غزہ: صدر محمود عباس کے فیصلے پر فلسطینی شہری احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل کی جانب سے مداخلت کے خدشات کے تحت انتخابات ملتوی کر نے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہاکہ انتخابات اسی صورت میں کرائے جا سکتے ہیں، جب اسرائیل بیت المقدس کے مقبوضہ علاقوں میں بھی رائے شمار کی اجازت دے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق فلسطین کی 2حریف سیاسی جماعتوں فتح اور حماس نے 22 مئی کو سینیٹ اور 31 جولائی کو صدارتی انتخابات کرانے کے معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔ اگر اس پر عمل کرلیاجاتا تو یہ فلسطین میں 15برس کے بعد پہلے انتخابات ہوتے۔ مغربی کنارے کے رملہ میں مختلف فلسطینی گروہوں کے نمایندوں سے ملاقات کے بعد محمود عباس نے کہاکہ بیت المقدس سمیت تمام فلسطینی علاقوں میں انتخابات کا ہونا ضروری ہے۔ بیت المقدس میں آباد ہمارے لوگ ووٹ دینے کے جمہوری حق کو نہیں چھوڑ سکتے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ انتخابات فلسطین کا داخلی مسئلہ ہے اور تیل ابیب کا اسے روکنے یا اس میں کسی طرح کی مداخلت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ محمود عباس کا موقف ہے کہ بیت المقدس کے سوال پر اسرائیلی حکام اب تک کوئی جواب نہیں دے سکے۔ اس کے علاوہ اسرائیل میں فی الحال کوئی حکومت قائم نہیں ہے،جس کی وجہ سے کسی بھی بیان کو حکومتی پالیسی سمجھنا غلطی ہوگا۔ دوسری طرف فلسطینی سیاسی جماعتوں نے صدر عباس کے اقدام کو مسترد کردیا۔ اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے فلسطینی اتھارٹی کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی قوم کو ایک مخصوص ٹولے کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ صدر عباس کا یہ اعلان قومی سیاسی شراکت کے اصولوں کی صریح نفی ہے۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق حماس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ صدر عباس کے فیصلے کے اثرات ونتائج کی تمام ذمے داری تحریک فتح اور فلسطینی اتھارٹی پرعائد ہوگی۔ فلسطینیوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ بیت المقدس میں اپنے فیصلے کو قابض دشمن پر نافذ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ حماس کو پہلے سے علم ہوچکا تھا کہ تحریک فتح اور فلسطینی اتھارٹی انتخابات کو ملتوی کرنے کی طرف جا رہی ہے۔ انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ صہیونی حکام سے لاحق خدشات نہیں بلکہ تحریک فتح کو انتخابات میں اپنی شکست فاش صاف دکھائی دے رہی تھی۔ یاد رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں رمضان کی ابتدا سے اسرائیلی پابندیوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران درجنوں فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔ صہیونی حکام نے طاقت کے زور پر شہر قدم کے باب دمشق پر سالوں سے جاری افطار اور عبادات کے سلسلے کو بند کردیا تھا،جس پر فلسطینی سراپا احتجاج تھے۔ کئی روز تک جاری رہنے والے مظاہروں کے بعد بالآخر صہیونی حکومت نے گھٹنے ٹیک کر باب العامود سے چوکیاں ہٹاکر فلسطینیوں کو اپنے معمولات بحال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ فلسطینی صدر نے انہی واقعات کو آڑ بنا کر اسرائیل کی جانب سے انتقام کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔