بھارت : آکسیجن کی اپیل کرنا جرم ٹھہر ا ، نوجوان پر مقدمہ

113
بھارت: اسپتالوں کے وارڈ کورونا سے متاثر مریضوں سے بھرے پڑے ہیں

لکھنؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں سوشل میڈیا پر آکسیجن کی اپیل کرنے والے نوجوان کو افواہیں پھیلانے کے الزام میں دھر لیا گیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق واقعہ ریاست اتر پردیش میں پیش آیا،جہاں نوجوان نے ٹوئٹر پر اپنے دم توڑتے دادا کے لیے آکسیجن کی اپیل کی تھی۔ امیٹھی شہر کی پولیس کا کہنا ہے کہ ششانک یادو کو افواہیں پھیلانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے اور جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں اسے قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ اتر پردیش بھارت کی سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاستوں میں شامل ہے۔ اتر پردیش کے شدت پسند وزیر اعلیٰ یوگی ادتیاناتھ کورونا وائرس کی سنگین صورت حال میں بے پروائی پر سخت تنقید کی زد میں ہیں۔ اس سے قبل یوگی ادتیاناتھ نے کہا تھا کہ کورونا کے بارے میں افواہیں اور غلط خبریں پھیلانے والے کی جائداد کو ضبط کر لیا جائے گا۔ نریندر مودی کی انتہا پسند بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ نے دعویٰ بھی کیا تھا کہ دہلی کے کسی اسپتال میں آکسیجن کی کمی نہیں ہے،جب کہ عالمی میڈیا پر دارالحکومت سے متعلق جاری ہونے والی تصاویر وہاں کی بدترین صورت حال کو ظاہر کررہی ہیں۔ دوسری جانب بھارت میں کورونا وائرس کے خوفناک پھیلاؤ اور آکسیجن کی قلت کے باعث امن و امان کے مسائل بھی پیدا ہوگئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست گجرات میں آکسیجن سلنڈر بھرنے کے دوران 2 گروہوں میں تصادم ہوگیا اور اس دوران فائرنگ بھی ہوئی۔ موقع پر موجود پولیس اہل کار انہیں روکنے میں ناکام رہے،جس کے بعدوہاں اضافی نفری طلب کرلی گئی۔ جھگڑے کے دوران فریقین نے وہاں موجود گاڑیوں کو بھی توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے مشتبہ افراد کے خلاف انتشار پھیلانے اور اقدام قتل کا مقدمہ درج کر کے تلاش شروع کردی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کورونا بحران نے بھارت میں انسانی ہمدردی کو بھی ختم کر دیا ہے۔ لوگوں کو اپنے عزیز و اقارب کی لاشوں کو کندھا دینے کے لیے کرائے کے قلی حاصل کرنے پڑ رہے ہیں۔ لاشوں کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے لوگ پہلے ہی گھنٹوں انتظار کے کرب سے گزررہے ہیں، تاہم اب میتوں کو آخری منزل تک پہنچانے کے لیے مفاد پرستوں نے پیسے مانگنا شروع کردیے ہیں۔ کورونا وائرس کی دوسری لہر نے ایسی دہشت پھیلا دی ہے کہ اب کسی کی موت پر تعزیت اور غمگساری تو درکنار آخری رسومات میں شرکت کے لیے لوگوں کو جمع کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ شہری اپنے قریبی رشتے دار کو کاندھا دینے سے کترا رہے ہیں،جس کے باعث میت کو شمشان گھاٹ تک پہنچانا بھی ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ ان حالت میں موقع سے فائدہ اٹھاکر لوگوں نے کرائے پر اپنی خدمات فراہم کرنا شروع کردی ہیں اور اس کے لیے 5 سے 10 ہزار روپے فی کس ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی کئی تقریروں میں عوام کو مصیبت میں موقع تلاش کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ عوام کا کہنا ہے کہ مصیبت میں اس سے زیادہ بہتر موقع اور کیا ہوسکتا ہے کہ لاشوں کو کندھا دے کر پیسے کمائے جائیں۔