این اے 249 ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کو بد ترین شکست ،پیپلزپارٹی کی بر تری

211
کراچی: ضمنی الیکشن کے دوران رینجرز گشت پر ہے ‘ چھوٹی تصویر میں لوگ ووٹ ڈالنے کیلیے قطار میں کھڑے ہیں‘ جبکہ بزرگ خاتون کو ووٹ ڈالنے کیلیے لایاجارہا ہے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) این اے 249 ضمنی الیکشن کے غیرحتمی اورغیرسرکاری نتائج کے مطابق 276 میں سے200پولنگ اسٹیشنز کے رات گئے موصول ہونے والے نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے قادرخان مندوخیل 13023ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ ن لیگ کے مفتاح اسماعیل 10852ووٹلے کر دوسرے نمبر پر ہیں،ٹی ایل پی کے نذیر احمد9479 ووٹ لے کر تیسرے، پی ٹی آئی کے امجد آفریدی6814 ووٹ لے کر چوتھے، پی ایس پی کے مصطفی کمال6181 ووٹ لے کر پانچویں اور ایم کیوایم کے حافظ محمد مرسلین 4985 ووٹ لے کر چھٹے نمبر پر ہیں۔این اے 249 پر تحریک انصاف کے امجد اقبال آفریدی ، مسلم لیگ ن کے مفتاح اسماعیل ، پیپلز پارٹی کے قادر خان مندوخیل، پاک سرزمین پارٹی کے مصطفی کمال، ایم کیو ایم پاکستان کے حافظ محمد مرسلین سمیت 30 امیدوار میدان میں ہیں۔ یہ نشست پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا کے مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے رہنمائوں کا ایک دوسرے پر برتری کے دعوے اور دھندلی کے الزامات ۔قبل ازیں پولنگ کے دوران حلقے میں کچھ مقامات پرانتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی دیکھنے میں آئی۔ایک پولنگ اسٹیشن پر پریذائڈنگ آفیسر نے 2 بجے ہی فارم 45 پر پولنگ ایجنٹس سے دستخط کرالیے۔پی ایس پی کے رہنما حسان صابر کے مطالبے پردستخط شدہ فارم 45 منسوخ کردیے گئے۔ الیکشن کمیشن نے دوران پولنگ پی ٹی آئی کے 6 ارکان اسمبلی فردوس شمیم نقوی، راجا اظہر، سعید آفریدی، ملک شہزاد اعوان، بلال غفار ،شاہ نواز جدون اورن لیگ کے کھیل داس کوہستانی کو حلقے سے نکل جانے کا حکم دیا۔این اے 249 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا وقت صبح 8 بجے شروع ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہا۔علاوہ ازیں پی ٹی آئی،جے یوآئی ف اور مسلم لیگ ن کے کارکنان الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر جمع ہوگئے ،مبینہ دھاندلی کی شکایات اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی اور احتجاج کیا۔الیکشن کمیشن سے نتائج جلد جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری پہنچ گئی۔پولیس نے مظاہرین کو الیکشن آفس کے گیٹ سے ہٹادیا۔ قبل ازیں پی ٹی آئی کے مرکزی الیکشن آفس کے باہر تحریک انصاف اور ٹی ایل پی کے کارکنان کے درمیان تکرار دیکھنے میں آئی ۔دونوں جماعتوں کے کارکنان نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی اور کئی کارکنان میں تلخ کلامی ہوئی تاہم بعد میں مقامی رہنمائوں کی مداخلت پر صورتحال کنٹرول ہوئی۔ ٹی ایل پی کے کارکنان چلے گئے۔بعدازاں پی ٹی آئی کے کارکنان نے اپنے دفتر کے باہر احتجاج کیا۔