عالمی میڈیا: بھارت میں میڈیا کو سینسر شپ کا سامنا، کورونا رپورٹنگ بڑا چیلنج بن گیا

170

نئی دہلی: بھارت میں کورونا وبا کی رپورٹنگ میڈیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا؟ مودی حکومت نے صحت کے بحران کی سنگینی کو دنیا کی نگاہوں سے چھپانے کے لیے میڈیا پر مختلف پابندیاں عائد کردی ہیں جبکہ بھارتی حکام ایک بار پھر ایسی سوشل میڈیا پوسٹوں کو ہٹا رہے ہیں جن میں حکومت پر نکتہ چینی کی گئی ہے۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق مودی  سرکار نے ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام جیسی سوشل میڈیا سائٹس کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسے مواد کو ہٹا دیں جن میں کورونا کی نئی لہر کی وجہ سے ملک گیر سطح پر پیدا شدہ ہیلتھ کیئر کی سنگین صورت حال کے حوالے سے حکومت پر نکتہ چینی کی گئی ہے۔

خیال رہے بھارت میں اس وقت کورونا انفیکشن اور اموات کا ہر روز ایک نیا ریکارڈ بن رہا ہے، اسپتالوں میں گنجائش نہیں ہے، آکسیجن کی قلت ہے اور کووڈ سے ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات ادا کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے جبکہ شمشان گھاٹ اور قبرستان اپنی صلاحیت سے زیادہ کام کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ٹوئٹر نے جو ٹوئٹس ہٹائے ہیں ان میں سے بیشتر میں میڈیکل سپلائی، اسپتالوں میں بستر اور آکسیجن فراہمی میں ناکامی کی وجہ سے حکومت پر تنقید کی گئی تھی جبکہ پریشان حال لوگ اپنی بات کہنے اور مدد کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں، لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ جو پوسٹیں ہٹا ئی گئیں ہیں ان میں غلط یا گمراہ کن اطلاعات دی گئی تھیں اور ان کی وجہ سے لوگوں میں خوف پیدا ہو رہا تھا۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے ایک عہدیدار کا کہنا تھاکہ یہ فیصلہ کورونا وبا کے خلاف جنگ میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کیا گیا ہے، اس طرح کے پوسٹس سے عوامی نظم و نسق کو نقصان پہنچ سکتاتھا جبکہ فروری میں بھی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک قانونی نوٹس کے بعد ٹوئٹر نے پانچ سو سے زائد ایسے اکاونٹس بند کردیے تھے جو متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک سے متعلق تھے۔

عالمی میڈیا  کا کہنا ہےکہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کے خلاف کسی بھی طرح کی نکتہ چینی کو برداشت نہیں کرتی ہے اور رائے عامہ پر کنٹرول کرنا چاہتی ہےجبکہ میڈیا امور کی ماہر پامیلا فلیپوز نے کا کہنا تھا کہ حکومت کی پہلی کوشش ہوتی ہےکہ اطلاعات کو کنٹرول میں رکھا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ  بلاشبہ وباء کے دوران غلط اطلاعات بھی پھیلتی ہیں لیکن انہیں پوری طرح سینسر کر دینا فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا کیونکہ ایسا کرنے سے اہم اطلاعات پر بھی پابندی عائد ہو جاتی ہے۔

ایڈیٹر سیوانتی نینان کا کہنا تھا کہ پہلے حکومت اطلاعات دینے والوں کو نشانہ بناتی تھی لیکن اب وہ پلیٹ فارم کو بھی نشانہ بنا رہی ہے،اس وبا کی رپورٹنگ میڈیا کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے جبکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارتی میڈیا میں ایک نئی صف بندی دیکھنے کو مل رہی ہے، حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات پر نکتہ چینی کو بھارت کے امیج کو خراب کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

میڈیا اور حکومت کے درمیان تعلقات کی ایک نئی تشریح کرتے ہوئے حکومت پچھلے چند برسوں کے دوران حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے والے میڈیا اداروں کو ملک دشمن کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

غیر ملکی میڈیا گروپ کے لیے کام کرنے والے صحافی کا کہنا تھا کہ انہیں بھی حکومت کی طر ف سے سخت دباو کا سامنا کرنا پڑرہاہے، ا نہیں کہا جارہا ہے کہ ایسی خبریں نہ دیں جو دنیا بھر میں میڈیا کی سرخیاں بن جائیں۔

انہوں نے بتایاکہ جب ہم نے یہ خبر دی کہ وبا کی وجہ سے اموات کے اعدادو شمار چھپائے جارہے ہیں تو ہمیں حکومت کے کئی اہم افراد کی طرف سے فون آنے شروع ہوگئے۔

غیرملکی سرکاری براڈکاسٹر کا بتانا تھاکہ گوکہ براہ راست کوئی دباو یا حکم تو نہیں ملا ہے کیونکہ اس سے حکومت کے امیج پر الٹا اثر پڑے گا لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ ٹرول کرنے والوں کا منظم گروپ ہماری خبروں کو سوشل میڈیاجھوٹا ثابت کرنے کی مہم چلاتا ہے۔

سیونتی نینان کا کہنا ہے کہ حکومت کوسب سے زیادہ پریشانی غیرملکی میڈیا سے ہے کیونکہ ان پر اس کاکوئی کنٹرول نہیں ہے، کورونا وائرس کے بحران سے نمٹنے میں حکومت کے اقدامات کی نکتہ چینی کرنے والے کئی صحافیوں کو گزشتہ برس بھی ہراساں کیا گیا تھا جبکہ بعض کو جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا۔

سرکاری حکام نے وبا کے دوران سرکاری بدعنوانی اور ڈاکٹروں کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے والے بعض صحافیوں کے خلاف ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کردیا تھا۔

خیال رہےکہ رپورٹرز ودآوٹ بارڈر نامی بین الاقوامی تنظیم نے گزشتہ ہفتے اپنی رپورٹ میں بھارت کوخراب صحافت والے ملکوں کی فہرست میں شامل کیا ہے ا ور اسے صحافیوں کے لیے دنیا کے سب سے خطرناک ملکوں میں قرار دیا ہے جبکہ ورلڈ پریس فریڈم انڈکس2021 میں بھارت مسلسل دوسرے برس بھی 180ملکوں کی فہرست میں 142ویں مقام پر ہے۔