عجیب سبز پتھر کو دیکھ کر ماہرین نے دنیا کو خبردار کردیا

500

یہ بظاہر ایک بے ہنگم سبز رنگ کا پتھر ہے جس کی لمبائی 4 سینٹی میٹر سے تھوڑی زیادہ ہے مگر پھر بھی یہ چھوٹا سا پتھر کا ٹکڑا ہمارے مستقبل کے لئے اہم ہے۔

اسے جدید دور کے مغربی انٹارکٹیکا کے ساحل سے دور گہرے سمندر کی زمین سے برآمد کیا گیا ہے۔ جن سائنس دانوں نے اسے پایا وہ کہتے ہیں کہ اس پتھر کو وہاں نہیں ہونا چاہئے تھا جہاں سے یہ ملا ہے۔

اس پتھر کو ڈراپ اسٹون ، آئس رافٹڈ ملبے کا ایک ٹکڑا کہا جاتا ہے۔ یہ پتھر ایک گلیشیئر جو اپنی باقی ماندہ زمین سے الگ ہوگیا تھا، کے ذریعے یہاں تک پہنچا۔ یہ گلیشئر کے اندر پایا جاتا ہے۔

اس خاص پتھر کے بارے میں جو بات قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ محققین اس کی شروعات کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔

جدید ترین “جیو فنگر پرنٹنگ” تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے سائنسدانوں نے پتہ لگایا ہے کہٓ یہ پتھر ایلس ورتھ پہاڑوں سے آیا ہے۔ یہ تقریبا 1،300 کلومیٹر کی دوری سے فاصلہ طے کرتے ہوئے آیا ہے جہاں ڈرلنگ جہاز کے کام کرنے کے نتیجے میں یہ سمندری زمین سے سطح پر برفانی ٹکڑے کے ذریعے اوپر آیا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ پتھر ہمارے لیے ایک وارننگ کی طرح ہے کیونکہ اینٹارٹیکا کی برف بہت تیزی سے پگھل رہی ہے جو کہ اس کرہِ ارض کیلئے نقصاندہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ پتھر گلیشیئر کے کافی اندر پایا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عمومی طور پر یہ دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے پتھروں کا ظاہر ہونا اچھی بات نہیں ہے۔