شہزاد اکبر نے سابق ڈی جی ایف آئی اے کو لیگل نوٹس بھجوادیا، معافی کا مطالبہ

161

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی جانب سے عائد کردہ الزامات پر قانونی نوٹس بھجوادیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں شہزاد اکبر نے کہا کہ وکلا نے بشیر میمن کو ناجائز الزامات، بغیر ثبوت جھوٹ پر لیگل نوٹس بھیجا، میں قانونی کی بالادستی پر یقین رکھتا ہوں جبکہ بشیر میمن عدالت کے سامنے اپنے الزامات کیلئے جوابدہ ہیں۔

لیگل نوٹس میں کہا گیا کہ موکل شہزاد اکبر ملک میں کرپشن کیخلاف اہم کردار ادا کررہے ہیں، موکل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا مقصد کرپشن کیخلاف اقدامات کو ٹھیس پہنچانا ہے، کل بے بنیاد الزامات سے موکل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے کوشش کی گئی ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی جانب سے سابق ڈی جی ایف آئی اے کو پچاس کروڑ ہرجانے کا نوٹس بھی بھجوایا گیا ہے ساتھ ہی نوٹس میں کہا گیا کہ کل ٹی وی چینل کے زریعے میرے موکل، پرنسپل سیکریٹری اور وزیرقانون کیخلاف جھوٹے الزامات عائد کیے گئے، الزام عائد کیے گئے کہ معزز جج کیخلاف ایف آئی اے کو استعمال کرناچاہتے تھے۔

شہزاد اکبر کے وکلا کی جانب سے بھیجے گئے لیگل نوٹس میں الزامات پر غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا اور بشیر میمن کو پچاس کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیجا گیا ہے، نوٹس میں کہا گیا کہ ٹی وی پروگرام میں لگائیگئیتمام ترالزامات کی سختی سیتردیدکی جاتی ہے، بشیر میمن شہزاد اکبر پر لگائے گئے تمام الزامات واپس لیں اور باضابطہ معافی مانگیں 14 دن میں الزام واپس نہ لیے تو قانونی کارروائی کی جائیگی۔

اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ ان لوگوں نے جج ارشد ملک کو رشوت آفر کی، گوہر ایوب سے کہا کہ چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو ہتھکڑی لگانے کا طریقہ نکالو، مریم کے چچا نے جسٹس قیوم سے من پسند فیصلے کیلئے دباؤ ڈالا۔

شہزاد اکبر نے لکھا کہ مریم کے ابو نے بطور وزیر اعظم غنڈوں سے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ ججز پر حملہ کرایا، نہال ہاشمی سے ججوں کے بچوں کو قتل کی دھمکی دی، نون لیگ نے اپنے خلاف فیصلہ دینے والے ہر جج اور عدالت کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔ مریم نواز کا مخاطب کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب نے لکھا کہ محترمہ جتنا احترام آپ اور آپ کے خاندان نے کیا پوری قوم جانتی ہے، ابھی آپ کے ابا عدالت کا اتنا احترام کرتے ہیں کہ لندن میں اشتہاری مجرم بنے بیٹھے ہیں، حد ہے ویسے منافقت کی!۔