ہیومن رائٹس واچ کا اسرائیل پر نسلی امتیاز کا الزام

156
مقبوضہ بیت المقدس: مغربی کنارے کے علاقے سلفیت میں صہیونی حکام کی جانب سے اراضی ہتھیانے کے قوانین کے خلاف شہری اسرائیلی فوج کے سامنے مظاہرہ کررہا ہے۔

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیل پر فلسطینیوں کے ساتھ نسلی امتیاز کا الزام عائد کردیا۔ عالمی تنظیم نے 213صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اسرائیل اپنی سرحدوں کے اندر اور اپنے زیر قبضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے ساتھ بین الاقوامی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔ نیو یارک میں قائم تنظیم اور انسانی حقوق کے کئی دیگر اداروں اور مبصرین کی رائے ہے کہ اسرائیل فلسطینی شہریوں اور غزہ کے مقامی باشندوں کو منظم انداز میں ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب فلسطین میں انسانی حقوق کے اداروں نے انکشاف کیاہے کہ حال ہی میں اسرائیلی فوج نے 3فلسطینی بچوں کو گرفتار کرکے حراستی مراکز میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ قیدیوں اور آزادیوں کے امورکے محکمے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے 3معصوموں کو انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا۔ متعلقہ ادارے نے تینوں بچوں کے بیانات بھی شائع کیے۔ انہیں کفر قاسم نامی قصبے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ دوران حراست قابض فوجیوں نے ان کے ہاتھوں اور پیروں پر رائفل کے بٹ مارے،جس سے بری طرح لہولہان ہوگئے۔ ادھر مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب شیخ عکرمہ صبری نے کہا ہے کہ اسرائیل کا بیت المقدس کے باشندوں کے ساتھ برتائو اور ارض مقدس کو یہودیانے کی سازشیں ناقابل قبول ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیت المقدس کے علاقے شیخ جراح سے فلسطینیوں کی بے دخلی نسلی تطہیر کے مترادف ہے۔ انہوں نے شیخ جراح کے باشندوں کی اپنی زمینیں نہ چھوڑنے کے عزم کوخراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہودی آباد کاروں کو اور اسرائیلی حکام کو فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کرنے کا کوئی حق نہیں۔ قابض اسرائیل منصفانہ قوانین پر نہیں چلتا بلکہ فلسطینی اراضی پر قبضے کے لے طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے ریاستی وسائل کا بھی بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل بیت المقدس کی اراضی کو یہودیاناچاہتا ہے۔