اسپین کے قریب کشتی سے 17 مہاجرین کی لاشیں بر آمد

160
اسپین: امدادی کارکن جزائر کنیری کے قریب تارکین وطن کو کشتی سے باہر نکال کر جہاز پر منتقل کررہے ہیں

میڈرڈ (انٹرنیشنل ڈیسک) اسپین کے کینری جزائر کے قریب کشتی خراب ہونے کے باعث 17مہاجرین ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام مہاجرین سب صحارا افریقی ممالک کے رہنے والے تھے۔ مقامی حکام کے مطابق زندہ بچ جانے والے 3تارکین وطن کو ٹینریف کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اسپین کی مقامی ایمرجنسی سروسز کے ترجمان نے بتایا کہ اس کے کوسٹ گارڈ نے کینری جزائر کے ساحل پر ایک کشتی میں 17افراد کو مردہ حالت میں پایا۔ زندہ بچ جانے والے 3افراد میں 2مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ انہیں فوری طور پر فوجی ہیلی کاپٹر کے اسپتال میں منتقل کیا گیا۔ ترجمان نے بتایا تینوں افراد بُری طرح بیمار تھے، تاہم علاج کے بعد اب ان کی حالت ٹھیک ہے۔ کشتی پر سب سے پہلے ہسپانوی بحریہ کے ایک جہاز کی نظر پڑی جو ایل ہیئرو سے تقریباً 265 ناٹیکل میل دور کھڑی ہوئی تھی۔ اسپین کے میری ٹائم ریسکیو سروس کے مطابق کشتی میں سوار تمام مہاجرین سب صحارا افریقی ملک سے تعلق رکھتے تھے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ یہ مہاجرین کہاں سے آئے تھے۔ تمام تر خطرات کے باوجود افریقا سے بحر اوقیانو س عبور کر کے کینری جزائر میں آنے والے مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ یکم جنوری سے 31 مارچ کے درمیان تقریباً 3ہزار 400 مہاجرین کینری جزائر پہنچے تھے۔ حالیہ واقعے سے پہلے بھی رواں ماہ کے اوائل میں ایل ہیئرو میں اسی طرح کا واقعہ پیش آیا تھا۔ ایک چھوٹی سی کشتی میں سوار 23 مہاجرین میں سے 4مردہ پائے گئے تھے۔ اتوار کے روز 100مہاجرین نے مراکش سے ہسپانوی علاقے کیوٹا پہنچنے کی کوشش کی تھی، جنہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ افریقی ممالک میں غربت و افلاس کے باعث اکثر نوجوان اچھے مستقبل کی تلاش میں یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں وہ چھوٹی کشتیوں کو گہرے سمندر میں لے جانے سے بھی نہیں چوکتے اور اکثر انسانی اسمگلروں کا شکار ہوجاتے ہیں۔