ایڈمنسٹریٹر کراچی نے بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کے لیے چھ رکنی مشکوک کمیٹی تشکیل دے دی

203

کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری) ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر سے پہلے فائر بریگیڈ کا این او سی جاری کرنے کے لئے ایک مشکوک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

مشیر قانون عذرا مقیم کمیٹی کی کنوینئر ہیں جبکہ دیگر اراکین میں مشیر مالیات کا نمائندہ غلام مرتضیٰ، ڈائریکٹر اسٹیٹ امتیاز ابڑو، ڈائریکٹر ایم یو سی ٹی نایاب سعید، ڈائریکٹر لینڈ طارق صدیقی اور محکمہ فائربریگیڈ سے ہمایوں شامل ہیں۔

سنگین الزامات کی زد میں رہنے والے امتیاز ابڑو اور طارق صدیقی کی شمولیت نے کمیٹی کو مشکوک بنا دیا ہے۔ کے ایم سی افسران نے بلڈرز اور کے ایم سی کے درمیان بلند عمارتوں کی تعمیرات سے متعلق کمیٹی میں غیر متعلقہ اور نااہل افسران کو شامل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی میں صرف کے ایم سی کے افسران کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

افسران کا کہنا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر نے اپنے منظور نظر سنگین الزامات کی زد میں رہنے والے افسران کو بلند عمارتوں کی تعمیرات میں فائر بریگیڈ کی این او سی شامل کرنے کے لئے بنائی گئی کمیٹی میں شامل بعض افسران کے ایم سی کے بجائے بلڈرز سے اپنے معاملات طے کرسکتے ہیں۔

افسران کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں ڈائریکٹر اسٹیٹ امتیاز ابڑو اور ڈائریکٹر لینڈ طارق صدیقی فوری طور پر نکالا جائے جبکہ محکمہ انجینئرنگ کے افسران کو شامل کیا جائے۔

افسران کا کہنا ہے کہ موجودہ ایڈمنسٹریٹر نے کے ایم سی کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے لیئق احمد کی اقربا پروری اور کماو افسران پر نوازشات کی وجہ سے ناصرف کے ایم سی کا مالی خسارہ بڑھ رہا ہے بلکہ ادارے کا انتظامی بحران بھی سنگین ہوتا جارہا ہے۔

افسران کا مزید کہنا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر نے تاحال عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا متعدد او پی ایس افسران تاحال عہدوں پر براجمان ہیں۔