اسرائیل نے گھٹنے ٹیک دیے ، بیت المقدس کی رونقیں بحال

397
مقبوضہ بیت المقدس: فلسطینی شہری باب العامود سے رکاوٹیں ہٹانے کے ساتھ جشن منا رہے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ بیت المقدس میں کئی روز سے جاری مظاہروں کے آگے گھٹنے ٹیک کو باب دمشق میں رمضان کے معمولات بحال کردیے۔ خبررساں اداروں کے مطابق صہیونی حکام نے رمضان کے آغاز ہی سے شہر قدیم کے باب دمشق پر چوکیاں قائم کرکے وہاں برسوں سے جاری افطار اور عبادات کے سلسلے کو بند کردیا تھا، جس سے فلسطینی مظاہرین سخت مشتعل تھے۔ اسرائیلی پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مذہبی رہنماؤں اور سیاست دانوں سے مشورے کے بعد رکاوٹوں کو ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اعلان کے فوری بعد سیکڑوں فلسطینیوں نے جشن منایا اور ریلیاں نکالیں۔ اس دوران اسرائیلی پولیس اہل کار وہاں تعینات رہے۔ اس سے قبل فلسطینی نوجوان ساری رکاوٹیں عبور کرکے مقبوضہ بیت المقدس قدیم میں داخل ہوگئے تھے۔ اسرائیلی فوج کے ساتھ نوجوانوں کی جھڑپیں بھی ہوئیں،تاہم انہوں نے بہادری کے ساتھ راستے کو صاف کردیا،جس کے بعد سیکڑوں فلسطینیوں نے نمازِ فجر ادا کی۔ اس موقع پر نوجوانوں نے آزاد فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی بحالی کے لیے نعرے بازی بھی کی۔ دوسری جانب اسرائیلی آرمی چیف جنرل افیف کوشاوی نے غزہ کی سرحد پر پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کے بعد فوج کو جنگ کی تیاری کے احکامات دے دیے۔ جنرل کوشاوی نے فوج کی کئی یونٹوں کو ہر طرح کی صورت حال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہم غزہ میں کارروائی کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس کے لیے ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں غزہ کی پٹی کی تازہ صورت حال کے بعد صہیونی فوجی قیادت کا اہم ہنگامی اجلاس ہوا،جس کی صدارت آرمی چیف جنرل کوشاوی نے کی۔ اجلاس میں وائس چیئرمین چیف آف اسٹاف ایال امیر، سدرن کمانڈ کے کمانڈر العاز تولیدانو، داخلی محاذ کے سربراہ اوری گورڈین، آپریشنل چیف اہارون حلیوا،انٹیلی جن چیف تامیر ہیمان اور دیگر فوجی رہنمائوں نے شرکت کی۔