الرجک بخار سے متعلق جاننے کی باتیں

267

گرمی جرگ یعنی pollens کی بڑھتی ہوئی تعداد کو بھی اپنے ساتھ لاتی ہے جو اس سے الرجک افراد کیلئے نقصان دہ ثابت ہے۔ یہ جرگ ان افراد میں بخار اور الرجک ردِعمل کا سبب بن سکتے ہیں۔

جیسے جیسے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے درختوں کے جرگ کی گنتی بھی اتنی ہی بڑھتی ہے۔ اس سے ہونے والا بخار کسی کے لیے خوشگوار نہیں۔ بہتی ہوئی ناک ، گلے میں سوزش اور سر میں درد جیسی علامات واضح ہوتی ہیں۔

این ایچ ایس کے مطابق مارچ کے آخر اور ستمبر کے درمیان عام طور پر علامات زیادہ خراب ہوجاتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ بھی پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2030 تک برطانیہ میں اس بخار کی شرح دوگنی ہوجائے گی۔

ڈاکٹر ایڈمس گروم کہتی ہیں ، “ہم لوگوں کو اس موسمی اور الرجک بکار سے بچنے کیلئے سختی سے مشورہ دیتے ہیں کہ وہ موسم کے آغاز سے ایک یا دو ہفتے قبل ہی متعلقہ دوائی لیں۔ اس سے متاثرہ افراد پہلے ہی خراب بخار سے بچ سکتے ہیں۔

دوائیوں کے علاوہ متاثرہ افراد ضرر رساں اجزاء کے دخول کو والی مصنوعات کا استعمال بھی کرسکتے ہیں جیسے بام جسے آپ اپنے نتھنوں کے نیچے لگا کر سوجائیں یا کسی بھی اوقات میں یہ بہتر طریقہ ہے۔

تاہم اس کے ساتھ ساتھ مقامی فارماسسٹ سے ملتے رہنا چاہیے جو آپ کے لیے بہترین دواؤں اور ،ذکورہ بالا جیسی کی مصنوعات تلاش کرنے میں مدد کرسکتا ہو۔

آپ کے علامات کو روکنے کے لئے اینٹی ہسٹامائنز بھی موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ ڈاکٹر ایڈمس گروم وضاحت کرتی ہیں کہ اینٹی ہسٹامنز ناک میں جرگ یا الرجک مادے سے پیدا ہونے والے ہسٹامنز کو روکنے کا کام کرتی ہیں۔