شامی مہاجرین کو سحر و افطار کی تیاری میں مشکلات

230

مسلمان روایتی طور پر رمضان عقیدت و احترام اور مذہبی جوش و خروش سے مناتے ہیں جب کہ کیمپوں میں رہنے والے شامی مہاجرین کو اس ماہ مبارک میں بھی خاصی مشکلات کا سامنا ہے جب کہ اکثر اپنی من پسند چیزوں کو ترس رہے ہیں۔ لبنان کے ایک مہاجر کیمپ میں مقیم 2بچوں کی ماں عائشہ العبد کا کہنا ہے کہ انہیں مہاجر کیمپ میں سحر و افطار کی تیاری میں مشکلات اور کئی قسم کی پریشانیوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ روزے میں بہتر خوراک کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے جسم میں غذائیت کی کمی رفع ہوتی ہے، تاہم اس سلسلے میں شامی مہاجرین کو شدید مصائب کا سامنا ہے۔ کیمپ میں ایک اور خاتون راہف الصغیر جو بیوہ اور 3 بیٹیوں کی ماں ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹیاں گوشت، چکن، بسکٹ اور پھل کھانے کی طلب کرتی ہیں لیکن کہاں سے یہ خرید کر لائی جائیں۔
رمضان اور مہنگائی
لبنان میں شامی مہاجرین کے کیمپ کے ایک مکین رعد مطار کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ رمضان میں بہت زیادہ مہنگائی ہے اور لوگ اس کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہیں۔ لبنان میں 10 لاکھ سے زائد شامی مہاجرین مقیم ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ان مہاجرین کے میزبان ملک لبنان کو شدید اقتصادی مشکلات درپیش ہیں۔ اس کے ساتھ کورونا وبا سے مجموعی سماجی صورت حال بھی خراب سے خراب تر ہو چکی ہے۔ لبنان کی اقتصادی مشکلات کی وجہ سے روزمرہ کے استعمال کی اشیا کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور مہنگائی کی شرح 2020ء میں 79 فیصد پر تھی، جو اب اور زیادہ ہو گئی ہے۔ ان حالات میں لبنانی کرنسی کی قدر بھی شدید گر چکی ہے۔ حال ہی میں جاری کردہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ شامی مہاجرین انتہائی غربت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔
منتقلی در منتقلی
رعد مطار کا کہنا ہے کہ اس مہنگائی کی وجہ سے لبنان کے مقامی لوگوں کے حالاتِ زندگی بہت خراب ہیں اور ایسے میں شامی مہاجرین کی کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مطار کا کہنا ہے کہ وہ جس طرح زندگی کے دن بسر کر رہے ہیں، اس کا اندازہ صرف انہی کو ہے۔ مطار کے مطابق عام لبنانی افراد انتہائی کم آمدنی والی ملازمتوں کے حصول کی کوشش میں ہیں۔ لبنان میں مشکل حالات کی وجہ سے العبد کا خاندان پانچ مرتبہ ایک کیمپ سے دوسری مہاجر بستیوں میں منتقل ہو چکا ہے۔