بھارت سے تجارت گیم چینجر ہوگی،کشمیر کو نظر انداز نہیں کرسکتے ،فواد چوہدری

203

اسلام آباد (صباح نیوز)وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت ہو گی تو یہ اس خطے کے لیے گیم چینجر ہو گی اور اس سے پاکستان اور بھارت دونوں کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے، کشمیریوں کو نظر انداز کرکے تو آگے نہیں بڑھا جاسکتا،پی ڈی ایم کی جو حالت ہوئی ہے ،مریم نواز اس صدمے سے باہر نہیں آپارہیں اس لیے ان کو پی ٹی آئی ٹوٹتی نظر آرہی ہے، حالانکہ ٹوٹ (ن) لیگ رہی ہے ۔ان خیالات کااظہار فواد چودھری نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک سال قبل ہم نے اپنے ہیلتھ سیکٹر کو وسعت نہ دی ہوتی تو آج بھی ہماری حالت بھارت جیسی ہو سکتی تھی لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایک سال پہلے ہم نے اقدامات شروع کیے اس کے نتیجے میں ابھی تک ہم کوروناوائرس کی وباکا مقابلہ کامیابی سے کررہے ہیں۔اب ایشو یہ ہے کہ ہمارے ہاں کوروناکے کیسز کی شرح11.4فیصد سے بڑھ رہی ہے اور اگر یہ شرح بڑھ کر 15فیصد ہو گئی تو پھر ہمارے موجودہ وسائل کم ہوجائیں گے اور ان پر اتنا بوجھ آجائے گا کہ وہ اس کا مقابلہ نہیں کرپائیں گے اور اس میں سب سے بڑا خطرہ آکسیجن کا ہے جو کہ اس وقت ہم 90فیصد صلاحیت پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم مکمل لاک کر دیں گے تواس کا مطلب یہ ہو گا ،امپورٹ اور ایکسپورٹس کے آرڈرز بری طرح متاثر ہوںگے ، ہم ٹرانسپورٹ نہیں چلا پائیں گے ، ہماری فوڈ سپلائی چین بری طرح متاثر ہوں گی، ہمارے ہاں آٹے ، چینی اور دیگر چیزوں کی کمی ہوجائے گی۔وزیر اعظم عمران خان کی ٹوئٹ کا پاکستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات سے تعلق نہیں بلکہ ان کی یہ بات خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیا پر تھی ۔ بھارت کے عوام کے ساتھ ہماری کوئی لڑائی نہیں ہے بلکہ ان کیساتھ تو ہمارا صدیوں کا رشتہ اور تعلق ہے، ایک خاص شدت پسند طبقہ جو کہ بھارت میں ہے اور اس نے مسلمانوں کی بالخصوص اور اقلیتوں کی بالعموم زندگیوں کو اجیرن بنایا ہوا ہے وہ ہمارے اختلافات کی بنیاد ہے اور کشمیر کے اوپر بھارتی حکومت کی خاص طور پر جو پالیسیاں ہیں ان پر ہمارااختلاف ہے۔