جوبائیڈن کی تقریر میں آرمینیائی نَسل کشی کا ذکر، ترکی کا شدید احتجاج

256

ترکی کی وزارت خارجہ نے 1915 میں آرمینیائی نسل کُشی پر امریکی صدر جوبائیڈن کے دعووں کو مسترد کردیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی نے آرمینیائی قتلِ عام کا عثمانیہ خلافت کو موردِ الزام ٹھہرانے کے دعووں پر امریکی صدر جو بائیڈن کے بیان کو علمی اور قانونی بنیاد کے فقدان سے تعبیر کیا ہے جس کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا ، “ہم 24 اپریل کو انتہا پسند آرمینی حلقوں اور ترک مخالف گروہوں کے دباؤ میں دیے گئے 1915 کے واقعات کے بارے میں امریکی صدر کے بیان کو سخت الفاظ میں مسترد اور اُس کی مذمت کرتے ہیں۔”

واضح رہے کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک عثمانی سلطنت کو 1914 میں ایک ملین یا اس سے زائد آرمینی باشندوں کے قتل عام کا مجرم ٹھہرانے پر تُلے ہوئے ہیں۔

جوبائیڈن کے اس بیان سے قبل از وقت واقف دو حکام کا کہنا تھا کہ صدر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ یوم یادگاری کے موقع پر یہ واقعہ بحیثیت سرکاری اعلامیے کے حصے کے طور پر بیان کریں گے۔

اسی معاملے سے واقف ایک تیسرے عہدیدار نے بتایا تھا کہ امریکی عہدیداروں نے جوبائیڈن انتظامیہ کے باہر اتحادیوں کو بھی اشارے بھیج دیے ہیں جن کا اس بات پر زور ہے کہ جوبائیڈن سلطنت عثمانیہ کی جانب سے کی گئی آرمینیوں کی نسل کُشی کو سرکاری سطح پر تسلیم کریں۔

ترکی اکثر غیر ملکی حکومتوں کے “نسل کشی” کے لفظ کے استعمال پر شدید احتجاج کرتا آیا ہے۔ ترکی کا موقف ہے کہ وہ جنگ کا زمانہ تھا اور دونوں ممالک کی جانب سے نقصانات اٹھائے گئے ہیں جبکہ ہلاک شدہ آرمینیوں کی تعداد 10 لاکھ نہیں بلکہ 3 لاکھ تھی۔