بیت المقدس میں کشیدگی برقرار ،غزہ میں جنگ

143

غزہ (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی حکومت نے سازش کے تحت رمضان المبارک میں فلسطین میں امن تباہ کرنا شروع کردیا۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق قابض فوج نے مقبوضہ بیت المقدس میں جاری کریک ڈائون کے دوران 3 روز میں 80 شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ اسیران اسٹڈی سینٹر کی رپورٹ کے مطابق صہیونی فوج نے مسجد اقصیٰ کے اطراف، باب العامود اور بیت المقدس کے دوسرے علاقوں میں چھاپامار کارروائیوں کے دوران شہریوں پر وحشیانہ تشدد کیا۔ قابض فوج کی کارروائیوں سے بیت المقدس میں سخت کشیدگی کی فضا قائم ہے۔ انتہا پسند یہودی گروہ بھی بڑھ چڑھ کر فلسطینی شہریوں پر حملے کررہا ہے۔ اسرائیلی حکام باب العامود، باب ساہرہ، مصرارہ، شیخ جراح کالونی اور دوسرے مقامات پر روزانہ کی بنیاد پر فلسطینی نوجوانوں اور بچوں کو گرفتار کررہے ہیں۔ جلادوں نے عقوبت خانوں میں نوجوانوں پر تشدد کے دوران ان کی ہڈیاں توڑ دیں اور کئی افراد کو جسم کے بالائی حصوں پرگہری چوٹیں آئیں۔ اسرائیلی فوج کی بہیمانہ کارروائیوں میں 17 بچے معذور ہوئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق اسرائیلی فوج نے بیت المقدس میں کریک ڈاؤن کے بعد غزہ پر راکٹ برسادیے۔ صہیونی فوج کی جانب جاری بیان میں حالیہ کارروائی کو غزہ کی حدود سے راکٹ باری کا ردعمل قرار دیا گیا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ غزہ کی جانب سے فلسطینی جنگجوؤں نے اسرائیل پر 30راکٹ داغے تھے۔ صہیونی فوج نے رات گئے غزہ میں زیر زمین انفرا اسٹرکچراورراکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا۔ کارروائی کے دوران اسرائیلی ٹینکوں نے بھی حصہ لیا۔ لڑاکا طیاروں نے جنوبی شہر رفح کے مشرق میں واقع متار کے زرعی علاقے میں 2 حملے کیے۔ جنگی طیاروں نے غزہ کے شمال مشرقی علاقے جبل الریز کے اہداف پر بھی بم باری کی،تاہم اس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ غزہ سے جنوبی اسرائیل کی طرف داغے جانے والے راکٹوں کی وجہ سے کئی خاندانوں کو خصوصی محفوظ مقامات میں پناہ لینا پڑی۔ ان میں سے چند راکٹ اسرائیلی حدود میں پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں پھٹ گئے، جب کہ دیگر کو آئرن ڈوم ائر ڈیفنس سسٹم نے ناکارہ بنادیا۔ دوسری جانب مزاحمتی تنظیم ابو علی مصطفی بریگیڈز نے اسرائیل پر پھینکے گئے راکٹوں کی ذمے داری قبول کرلی۔