امریکا کی زیر قیادت عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں نئے عہد و پیمان

101
واشنگٹن: امریکا کی زیرصدارت عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں مختلف ممالک کے رہنما اظہارِ خیال کررہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کی زیرصدارت عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں نئے عہدوپیمان کیے گئے ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں امریکا، چین، روس، جرمنی اور بھارت سمیت 40 ممالک اور تنظیموں کے نمایندوں نے شرکت کی۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کے لیے اس آن لائن سربراہ اجلاس کی میزبانی کی۔ انہوں نے مشترکہ بین الاقوامی کوششوں پر زور دیا۔ بائیڈن نے کہا کہ امریکا میں رواں دہائی کے آخر تک گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج نصف کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلوں کے حوالے سے امریکی کردار کو بحال کرنے کا عزم دہراتے ہوئے غریب ممالک کو اوباما دور میں دی جانے والی امداد دگنی کرنے کا اعلان کردیا۔ یاد رہے کہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں پیرس معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کرت یہوئے امریکا کی جانب سے ترقی پذیر ممالک کو ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے دی جانے والی امداد بھی ختم کردی تھی۔ کانفرنس سے چین کے صدر شی جن پن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، جاپان اور کینیڈا کے وزیراعظم اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر چینی صدر نے کہا کہ چین 2060ء تک کاربن نیوٹرل پر پہنچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین کا عزم ہے کہ بہت ہی مختصر عرصے میں کاربن پیک سے کاربن نیوٹریلٹی میں منتقل ہوجایا جائے اور اس کے لیے چین کو بہت زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ چینی صدر نے کہا کہ چین کوئلے کے پاور پلانٹوں پر سختی سے قابو پائے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ یہ کانفرنس ٹرننگ پوائنٹ ہوگا اور انہوں نے فوری اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔ گوتریس نے کہا کہ آج کی کانفرنس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماحولیات کے حوالے سے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔