بھارت میں کورونا وائرس کا خطرہ برقرار ، قبرستانوں میں جگہ ختم

238

نئی دہلی: بھارت میں کورونا وائرس کا وار جاری ہے، مسلسل دوسرے روز بھی 3 لاکھ سے زائد مریض پوزیٹوو آئے ہیں  جس کے بعداسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے جگہ کم پڑ گئی ہے اور آکسیجن کی کمی کی وجہ سے لوگ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

 بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بھارت میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز نے شہریوں کو شدید خوف میں مبتلا کررکھا ہے، دوسرے روز بھی 3 لاکھ کے قریب کورونا کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2 ہزار سے زائد کورونا مریض ہلاک ہوگئے ہیں۔

کیسزمیں بدتریج اضافے کے باعث بھارت کے اسپتالوں میں آکسیجن کی شدید قلت ہوگئی ہے، شہروں کے اسپتالوں میں افراتفری کا عالم ہے اور اسپتال بھی پوری طرح بھرچکے ہیں۔

جہاں کورونا کیسز نے شہریوں کو شدید خوف میں مبتلا کررکھا ہے، وہاں شہری شدید کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں جبکہ کورونا سے مرنے والوں کی آخری رسومات کی ادائیگی میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہورہا ہے۔

بھارت میں گذشتہ روز تین لاکھ پندرہ ہزار کورونا مریضوں کے رپورٹ ہونے کے بعد دنیا بھر میں اب تک کے سب سے زیادہ یومیہ کیسز کا ریکارڈ بن گیا جبکہ چین نے بھارت کو کورونا وبا پر قابو پانے کے لیے مدد کی پیش کش کردی ہے۔

دوسری جانب بھارت میں کورونا سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظردہلی ہائیکورٹ نے حکومت کوآکسیجن کی فراہمی کو یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہےکہ ہمیں فرق نہیں پڑتا، بھیک مانگیں، قرض لیں یا چوری کریں لیکن اسپتالوں میں آکسیجن کی دستیابی کو یقینی بنائیں۔

قبرستان کے گورکن نے میڈیا کو بتایا تھاکہ دہلی میں کورونا سے اموات میں اضافے کے سبب قبرستانوں میں جگہ کم پڑگئی ہے جبکہ ہریش چندر گھاٹ پر لکڑی کی چِتا پر عام اموات والے لوگوں کی آخری رسومات ادا ہوتی ہیں ، مگر قدرتی گیس کریمیٹوریم پر کورونا سے مرنے والوں کی آخری رسومات ادا کی جارہی  ہے ، وہاں بھی لمبی قطار لگنےسے ویٹنگ گھنٹوں تک پہنچ گئی ہے۔