روس نے یوکرائن کی سرحد پر فوج کیوں تعینات کی؟

202

ماسکو: روس نے ہمسایہ ملک یوکرائن کی سرحد پر تعینات فوجی دستے واپس بلانے کا اعلان کردیا ہے اور تمام فوجی دستوں کو یکم مئی تک اپنے اپنے اڈوں میں واپس پہنچنے کی ہدایات جاری کردی گئیں ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق روسی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ روس نے یوکرائن کی سرحد کے نزدیک بڑے پیمانے پر ہونے والی فوجی مشقیں ختم کردی ہیں اور ہمسایہ ملک یوکرائن کی سرحد پر تعینات فوجی دستے واپس بلانے کا اعلان کردیا ہے۔

روسی وزیر دفاع سرگئی شوگو نے یوکرائن کی سرحد پر تعیانت متعدد یونٹوں کو اپنے اڈوں پر واپس جانے کا حکم دےدیا ہے جبکہ یوروپی یونین کے مطابق  روس نے ایک لاکھ سے زائد فوجیں ہمسایہ ملک کی سرحد سے متصل کریمیا شہر میں تعینات کردیے ہیں ، تاہم روس نے 2014 میں یوکرائن کے علاقے کریمیا کو اپنے ساتھ ملایا تھا۔

روسی وزیر دفاع شوگو کا کہناتھا کہ مشقوں پر تعینات مختلف یونٹس اپنے اڈوں میں واپس جائیں گے کیونکہ روس نے فوجی مشقوں کے مقاصد حاصل کرلیے ہیں اور روسی افواج نے ملک کے لیے قابل اعتماد دفاع فراہم کرنے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرکے دیکھا دیاہے۔

روس کی وزارت دفاع کے مطابق ان فوجی مشقوں میں 60  جہاز، دس ہزار فوجی دستے، تقریبا 200 ہوائی جہاز اور 12سو فوجی گاڑیوں نے حصہ لیا تھا اور فوجی مشقوں کا ہدف پورا ہوگیا ہے۔

یاد رہےکہ گزشتہ ماہ روس نے ہزاروں فوجی دستوں اور بھاری ہتھیاروں کو مشرقی یوکرائن کی سرحد پر پہنچا دیا تھا، جس سے عالمی سطح پر یہ تاثر گیا تھاکہ روس ممکنہ طور پر یوکرائن پر چڑھائی کی تیاری کر رہا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرائن کی حمایت کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے بحیرہ اسود میں جنگی جہاز بھیجنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے اپنی بات کی  تردید کردی تھی۔

یوکرائن کے صدر وولڈیمیر زیلنسکی نے گذشتہ ہفتے یورپی رہنماؤں کے ساتھ  روسی فوجی دستوں کا معاملہ اٹھایا تھا اورروس کے صدر ولادیمیر پوٹن کو چیلنج کیا تھا کہ وہ متنازعہ علاقے میں ان سے ملاقات کریں۔