لیڈرز کلائمیٹ سُمٹ2021 کا آغاز ، 40 عالمی رہنماؤں کی شرکت

166

واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے لیڈرز کلائمیٹ سُمٹ2021 کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ جو بائیڈن کی سربراہی میں ہونے والی اس ورچوئل ماحولیاتی کانفرنس میں دنیا کے 40 عالمی راہنما شرکت کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق ہونے والی لیڈرز کلائمٹ سمٹ 2021 شروع ہوگئی  ہے جس میں امریکا، چین ‏اور روس کے صدورسمیت دیگر عالمی رہنماؤں نے شرکت کی ہے جبکہ کانفرنس میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی نمائندگی معاون خصوصی ملک امین اسلم کررہے ہیں اور ‏رات 10 بجے لیڈر کلائمٹ عالمی سمٹ سےخطاب کریں گے۔

رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس کانفرنس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں کے چلینجز سے نبزد آزما ہونا ہے جبکہ امریکا نے ماحولیاتی خطرات کم کرنے کے لیے 2023 تک کاربن کے اخراج کو پچاس فیصد تک کم کرنے کا اعلان کردیا کیا ہے۔

  امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اثرات سے محفوظ بناناضروری ہوگیا، جس کےخطرات کم کرنے کے معاشی تقاضے بدلنا ہونگے،  انہوں نے عالمی راہنماؤں پر زور دیاکہ دنیا بھرمیں گرین ملازمتیں فراہم کی جانی چاہئیں۔

دوسری جانب براطانیہ نے 2035تک کاربن کے اخراج میں 78 فیصد تک کمی لانے کا اعلان کیا ہے جبکہ دنیا میں سب سے زیادہ کاربن کا اخراج کرنے والے ملک بھارت نے کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے کوئی وعدہ نہیں کیا ہے۔

چینی صدر نے موسمیاتی تبدیلی کے علاقائی اور عالمی اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی ‏تبدیلی کے اثرات کو روکنا ہماری ترجیح ہے، چین گرین ہاؤس گیسز اخراج روکنےکےلیے کوئلے ‏کےاستعمال میں کمی لائےگا، کورونا وائرس مشترکہ دشمن ہے، عالمی برادری کو مل کر اس کےخلاف ‏لڑنا ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ ماحولیاتی و موسمیاتی خطرات کو کو کم کرنے پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

واضح رہے  گلوبل کاربن پراجیکٹ 2020 کی رپورٹ کے مطابق چین سالانہ 2777 ملین ٹن کاربن خارج کرکے سرفہرست ہے ، دوسرے پر امریکا ہے جہاں سالانہ 1442 ملین ٹن کاربن کا اخراج ہوتا ہے، تیسرے نمبر پر بھارت ہے جہاں ہر سال 714 ملین ٹن کاربن خارج ہوتی ہے۔