اسرائیل کا ایک اور نئی فلسطینی اراضی پر قبضہ

227

اسرائیلی قابض حکام نے مغربی کنارے کے علاقے بیت لیھم میں 35 ایکڑ زمین پر قبضہ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

بیت المقدس میں وال اینڈ سیٹلمنٹ مزاحمتی کمیشن کے دفتر کے ڈائریکٹر حسن بریجیح نے بتایا کہ ضبط شدہ زمینیں بالترتیب بیت المقدس کے جنوب مغرب میں فسلطین کے نہالین اور حسین گاؤں کی ہیں۔

اسرائیلی قبضہ کار حکام اس علاقے میں غیرقانونی آبادکاری سرگرمیوں میں اضافے کی کوشش میں نہالین گاؤں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جس میں غیرقانونی بیتر الیٹ بستی میں 560 نئے آباد کار یونٹوں اور سڑکوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی فوج مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی علاقے وادی اردن میں فلسطینیوں کی 11 ہزار دونم یعنی ڈھائی ہزار ایکڑ اراضی پر بھی قبضہ کرچکی ہے۔ وادی اردن کے ایک سماجی کارکن اور نسلی بنیادوں پر تیار کی گئی دیوار فاصل کے خلاف قائم کمیٹی کے ڈائریکٹر جنرل قاسم عواد کے مطابق صہیونی فوج نے 3 سیاحتی اور قدرتی مقامات کے تحفظ کے نام پر یہ اراضی ہتھیائی۔

قاسم عواد نے بتایا تھا کہ صہیونی فوج نے دیر حجلہ، مسواہ یہودی کالونی کے قریب جنوبی جفتل، عین الحلوہ کے مشرقی علاقے الفارسیہ اور مسکیوت وروتم میں فلسطینیوں کی اراضی پرقبضہ کیا۔