برطانیہ ایغوروں کی نسل کُشی کی تصدیق کرنے والا پہلا ملک بن گیا

192

برطانیہ کی حکومت چین میں ایغوروں مسلمانوں کی نسل کُشی کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنے والی پوری دنیا میں پہلی حکومت بن گئی ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ نے چین کے اپنے ایغور شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک کو نسل کشی قرار دے دیا ہے جس کی بیجنگ نے شدید مذمت کی ہے۔

برطانوی ہاؤس آف کامنز میں قانون سازوں نے تین گھنٹے تک جاری رہنے والی بحث کے بعد ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے اعلان کیا کہ چین کے شمال مغربی سنکیانگ صوبے میں ایغور اور دیگر نسلی اور مذہبی اقلیتیں انسانیت کیخلاف اور نسل کشی جیسے جرائم کا شکار ہیں۔

رکن پارلیمنٹ نصرت غنی جن پر گذشتہ ماہ پارلیمنٹ کے چار دیگر ممبروں کے ساتھ چین نے پابندی عائد کردی تھی، نے قانون سازوں کو یہ بل پیش کیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ اگرچہ نسل کشی کی اصطلاح کو کبھی بھی غلط استعمال نہیں کرنا چاہئے تاہم جب کہیں اس کی تصدیق ہوجائے تو اسے استعمال کرنے سے گھبرانا بھی نہیں چاہیے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی محکمہ خزانہ نے ایغوروں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے تناظر میں چین کے 2 عہدے داروں کے خلاف پابندیاں عائد کر نے کا اعلان کیا تھا جن میں سنکیانگ کی حکمراں جماعت کے سابق نائب سیکرٹری وینگ جنزہینگ اور سنکیانگ کے پبلک سیکیورٹی بیورو کے ڈائیریکٹر چین من گو او شامل تھے۔