بھارت کورونا کے باعث افراتفری ، عوام خوفزدہ

136
بھارت: اسپتالوں میں بستر نہ ہونے کے باعث کورونا سے متاثر افراد کو ایمبولنس گاڑیوں اور رکشوں میں ہنگامی امداد فراہم کی جارہی ہے

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت نے کورونا کے ایک دن میں سب سے زیادہ نئے کیسوں کے معاملے میں پوری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا، جب کہ متاثرین کے لیے انتہائی ضروری آکسیجن گیس کی قلت پیدا ہوگئی اور اس ضمن میں بلیک مارکیٹ بھی سرگرم ہوگئی ہے۔ بھارت کے مختلف علاقوں میں کورونا وائرس کی وبا کا قہر جاری ہے اور اس میں کمی کے بجائے دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بھارت اس وقت دنیا میں کورونا کے پھیلاؤ کا نیا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ جمعرات کے روز ملک میں تقریباً3 لاکھ 14 ہزار کورونا سے متاثرین کے نئے کیس درج کیے گئے۔ دنیا کے کسی ملک بھی میں ایک دن کے اندر اب تک کا یہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اس وبا کے آغاز کے بعد سے اب تک دنیا کے کسی بھی ملک میں ایک دن کے اندر اتنی بڑی تعداد میں لوگ متاثر نہیں ہوئے تھے۔ گزشتہ ایک دن کے دوران 2400 مزید افراد کی موت بھی ہوگئی۔ یہ اعداد و شمار سرکاری ہیں، جب کہ بعض آزاد ذرائع کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ بھارت میں کووڈ 19 سے متاثرین کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ کے قریب ہے، جب کہ تقریباً ایک لاکھ 85 ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کے حوالے سے گزشتہ روز دہلی ہائی کورٹ میں ایک کیس پر سماعت ہوئی جس میں عدالت نے مودی حکومت کی سخت الفاظ میں سرزنش کی اور کہا کہ حکومت آخر عوام کی زندگیوں کے حوالے سے اس قدر بے پروا اور بے حس کیسے ہو سکتی ہے۔ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ حکومت زمینی حقائق سے آخر اس قدر غافل کیوں ہے؟