فرانسیسی سفیر کو نکالنے کا فیصلہ پارلیمان کی سفارش پر ہوگا،صدر علوی

150

اسلام آباد (ن لائن) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ فرانس کے ساتھ تعلقات اور سفیر کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ پارلیمان کی سفارش کے بعد ہو گا۔
اسلام آباد میں غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھاکہ خارجہ پالیسی کے فیصلے وفاقی حکومت کا استحقاق ہے تاہم پارلیمنٹ اپنی سفارشات سامنے لاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری ملک ہونے کی حیثیت سے فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالنے کی قرارداد پارلیمنٹ میں پیش کی تاکہ عوام کے جذبات کی عکاسی ہو سکے ۔اس سوال پر کہ کیا پارلیمنٹ سے قرارداد کی منظوری کے بعد حکومت فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دے گی؟ صدر علوی کا کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ قرارداد کی منظوری کے بعد ہی کیا جائے گا۔ تاہم وزیر اعظم عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ سفیر کو نکالنے سے پاکستان کو معاشی نقصان ہوگا۔عارف علوی کا کہنا تھا کہ مذہبی طبقے کا پرتشدد احتجاج بعض یورپی ممالک کے اسلام کے حوالے سے اقدامات کا نتیجہ ہے جس نے ایسے وقت میں تہذیبوں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا ہے جب دنیا کو امن کی ضرورت ہے۔عارف علوی نے کہا کہ پیغمبر اسلام کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے۔