ناک کی اندرونی سوزش، دماغ کیلئے بھی نقصان دہ، حالیہ تحقیق

226

اگرچہ سر درد اور شدید نزلہ اتنا خراب نہیں ہے تاہم دائمی تکلیف اکثر مریضوں کو ذہنی تناؤ اور ڈپریشن میں مبتلا کردیتی ہے۔ اور اب نئی تحقیق اس کی ایک ممکنہ وجہ بتاتی ہے کہ طویل مدتی شدید ناک کی اندرونی سوزش دماغ میں تبدیلیوں کا سبب بنتا ہے۔

“دائمی سائنوسائٹس ناقابل یقین حد تک عام ہے۔” ، مطالعہ کے مرکزی رہنما مصنف ڈاکٹر آریا جعفری نے بتایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام امریکیوں میں سے 11 فیصد سے زیادہ افراد اس دائمی نزلہ زکام سے متاثر ہیں۔

ناک کی اندرونی سوزش sinusitis اس وقت ہوتی ہے جب کسی انفیکشن یا شاید الرجک رد عمل کی وجہ سے سائنوس ٹشو میں سوجن ہوجاتی ہے اور یہ سوجن وقت گزرنے کے ساتھ موٹی ہوتی جاتی ہے۔

مطالعاتی ٹیم نے 22 سے 35 سال کی عمر کے 1200 سے زیادہ بالغوں کے دماغی اسکینوں اور دماغی صحت کے جائزوں پر روشنی ڈالی۔ سب نے 2019 سے 2020 کے درمیان ہیومن کنیکٹوم پروجیکٹ میں حصہ لیا تھا۔

تفتیش کاروں نے درمیانے درجے سے شدید سوزش کے حامل 22 مریضوں اور بغیر سوزش کے 22 افراد کو جمع کیا۔ ابتدائی طور پر ٹیم نے اس لحاظ سے شرکاء کے سوچنے کی صلاحیت کے حوالے سے تو کوئی قابل ذکر تفاوت نہیں دیکھا تاہم اس عارضے میں مبتلا افراد کے دماغی اسکینوں کے بارے میں مزید تجزیہ کرنے کے بعد انہوں نے دریافت کیا کہ ان کے دماغ کے ایک اہم فنکشنل حب – فرنٹوپریئٹل (frontoparietal) نیٹ ورک میں خلل پڑ گیا ہے۔

جعفری نے بتایا کہ دماغ کا یہ حصہ دماغ کے متعدد حصوں کی سرگرمی کو مربوط کرنے اور دماغ میں توازن برقرار رکھنے کے لئے اہم کردار ادا کرتا ہے۔