آرمینیوں کا قتلِ عام، خلافت عثمانیہ کو سرکاری سطح پر مجرم ٹھہرانے کی تیاری

201

امریکا عثمانی سلطنت کے تحت ایک ملین یا اس سے زائد آرمینی باشندوں کے قتل عام کو سرکاری سطح پر “نسل کشی” قرار دینے کی تیاری کر رہا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن اس ہفتے ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو کشیدگی کی آخری حد پر لے جانے والے ہیں۔

سی این این کے مطابق جوبائیڈن کے اس فیصلے سے واقف دو حکام کا کہنا ہے کہ صدر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ یوم یادگاری کے موقع پر یہ واقعہ بحیثیت سرکاری اعلامیے کے حصے کے طور پر بیان کریں گے۔

دونوں حکام کا کہنا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس سے پہلے ہی اپنے خیالات تبدیل کردیں اور اس واقعے کو نسل کشی کے طور پر بیان کیے بغیر ہی اپنا بیان جاری رکھیں۔

اسی معاملے سے واقف ایک تیسرے عہدیدار نے بتایا کہ امریکی عہدیداروں نے جوبائیڈن انتظامیہ کے باہر اتحادیوں کو بھی اشارے بھیج دیے ہیں جن کا اس بات پر زور ہے کہ جوبائیڈن سلطنت عثمانیہ کی جانب سے کی گئی آرمینیوں کی نسل کُشی کو سرکاری سطح پر تسلیم کریں۔

واضح رہے کہ ترکی اکثر غیر ملکی حکومتوں کے “نسل کشی” کے لفظ کے استعمال پر شدید احتجاج کرتا آیا ہے۔ ترکی کا موقف ہے کہ وہ جنگ کا زمانہ تھا اور دونوں ممالک کی جانب سے نقصانات اٹھائے گئے ہیں جبکہ ہلاک شدہ آرمینیوں کی تعداد 10 لاکھ نہیں بلکہ 3 لاکھ تھی۔

سابق امریکی صدور باراک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ، دونوں نے انقرہ کی ناراضگی سے بچنے کے لئے نسل کشی کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کیا ہے۔ لیکن بائیڈن فی الحال ترکی کے ساتھ تعلقات میں پہلے ہی سے چلی آرہی سردمہری میں مزید اضافہ کرنے کیلئے پرعزم نظر آرہے ہیں۔