امریکا : پولیس اہلکار سیاہ فام کا قاتل قرار ، ایک اور لڑکی ہلاک

125
منیاپولس: قاتل کو ہتھکڑیاں پہنائی جارہی ہیں‘ جارج فلائیڈ کا بھائی فیصلے کے بعد خوشی کا اظہار کررہا ہے

منیا پولس (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس کی عدالت نے گزشتہ برس قتل ہونے والے سیاہ فام جار ج فلائیڈن کے کیس میں پولیس اہل کار ڈیرک شاوین کو مجرم قرار دے دیا۔ منی ایپلس کے ایک سابق پولیس اہلکار ڈیرک شاوین کو بارہ افراد پر مشتمل جیوری نے سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کے قتل کا مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔3 ہفتے سے جاری مقدمے کے فیصلے کے لیے 12رکنی جیوری تشکیل دی گئی تھی،جس میں 6 سفید فام اور 6 سیاہ فام جج شامل تھے۔ ججوں نے استغاثہ اور دفاع کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد سابق پولیس اہل کار کو غیر ارادی اقدامِ قتل اور دیگر الزامات کے تحت مجرم قرار دیا گیا ہے،تاہم اسے سزا 2ماہ بعد سنائی جائے گی۔ فیصلے کے بعد مجرم کو کمرہ عدالت میں ہتھکڑی لگا کر حراست میں لے لیا گیا۔ ادھر امریکی صدر بائیڈن اور دیگر رہنماؤں نے جارج فلائیڈ کیس کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق کیس کے فیصلے کے بعد صدر بائیڈن نے جارج فلائیڈ کی اہل خانہ کو ٹیلی فون کیا۔ جو بائیڈن نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ جیوری کا فیصلہ آگے بڑھنے کے لیے اہم سنگ میل ہے۔منی سوٹا کے گورنر ٹم والز نے کہا کہ عدالت کا کام ختم اور ہمارا شروع ہوگیا۔ سابق امریکی صدر اوباما نے ٹوئٹ میں کہا کہ جیوری نے صحیح کام کیا ہے، لیکن حقیقی انصاف مزید چیزوں کا متقاضی ہے۔ جارج سمیت کئی افراد اپنے حقوق سے محروم ہیں۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ میں جارج فلائیڈ کی موت پر خوف میں مبتلا تھا اور اب فیصلہ ہونے پر مطمئن ہیں۔ 25 مئی 2020 ء کو پولیس اہل کار ڈیرک شاوین نے اسٹور سے چوری کرنے کے لیے الزام میں سیاہ فام جارج فلائیڈن کو زمین پر گراکر 9منٹ تک اس کی گردن کو گھٹنے سے دبوچے رکھا تھا،جس کے باعث اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔ دوسری جانب امریکا میں تواتر کے ساتھ پولیس کے ہاتھوں سیاہ فاموں کی ہلاکت کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ واقعے میں پولیس گردی کا شکار ہونے والی 15سالہ سیاہ فام لڑکی تھی۔ خبررساں اداروں کے مطابق واقعہ ریاست اوہائیو کے شہر کولمبس میں پیش آیا، جہاں پولیس کی فائرنگ سے 15 سالہ سیاہ فام لڑکی ہلاک ہوگئی۔ مقتولہ شناخت ماکھیابرائنٹ کے نام سے ہوئی پولیس کا کہنا ہے کہ اسے چاقو حملے کی اطلاع موصول ہوئی تھی،جس کے بعد کارروائی کی گئی۔ مقتولہ جائے وقوع پر موجود دیگر خواتین پر چاقو سے حملے کے ارادے بڑھ رہی تھی کہ پولیس اہل کار نے اس پر فائرنگ کردی۔ گاڑی میں لگے کیمرے سے واقعے کی وڈیو بھی بن گئی،جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ کولمبس کے میئر نے واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔