سعودی عرب کا یونان سے فضائی دفائی نظام خریدنے کا معاہدہ

136
ریاض: سعودی عرب اور یونان کے درمیان دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جارہے ہیں

ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) یونان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدے طے پایا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق منگل کے روز طے پائے اس معاہدے کے تحت یونان سعودی عرب کو توانائی کی تنصیبات کے تحفظ کے لیے پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام مہیا کرے گا۔ یونانی وزیرخارجہ نیکوس دیندیاس نے ریاض میں صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت ایک پیٹریاٹ بیٹری کو یہاں سعودی عرب میں منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا ہے کہ انہوں نے خلیج تعاون کونسل کے ساتھ بھی تعاون کے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں۔ یونانی وزیر خارجہ نے کہا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ تعاون کے فروغ کے لیے ہمارے ملک کا یہ ایک بڑا قدم ہے اور یہ مغرب کے لیے توانائی کے وسائل کے وسیع تر تحفظ میں بھی ایک اہم حصہ ہے۔ دیندیاس نے وزیردفاع نیکوس پناجیوٹوپولس کے ساتھ ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اس دفاعی معاہدے کا اعلان کیا۔ امریکی ساختہ پیٹریاٹ طیارہ شکن نظام انتہائی بلندی سے آنے والے بیلسٹک میزائلوں کے حملوں کو روکنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ سعودی عرب پر حالیہ مہینوں کے دوران میں یمن سے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے بموں سے لدے ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں سے سیکڑوں حملے کیے ہیں۔ حوثی باغی ایران کے مہیا کردہ بیلسٹک میزائلوں اور بارود سے لدے ڈرون طیاروں سے سعودی عرب میں آبادیوں، شہری ڈھانچے اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔