جنگِ عظیم دوئم: پولینڈ نے جب ایک ریچھ کو فوج میں بھرتی کیا

424

پولینڈ کے فوجیوں کو ایک جنگ کے دوران ریچھ کا بچہ ملا جس کی ماں کو شکاری جانوروں نے سڑک کے کنارے مار دیا تھا۔

ایک سپاہی نے ریچھ کو اپنا لیا اور اس کا نام ووجٹیک رکھا اور اسے ایک فوجی نے جنگی مشق کرائی جس کے بعد اسے آخرکار پولینڈ کی فوج میں بطور سپاہی بھرتی کیا گیا۔

یہاں تک کہ اُسے برطانوی ٹرانسپورٹ کے جہاز پر چڑھایا گیا ، اس کی تنخواہ مقرر کی گئی ، سیریل نمبر کا اجراء ہوا، اور عہدہ (فوجی سپاہی) دیا گیا۔

وہ اکثر دوسرے فوجیوں کے ساتھ بنکوں میں سوتا تھا اور کہا جاتا ہے کہ اسے بیئر اور سگریٹ کا بہت شوق تھا۔

اس نے بارودی خانوں سمیت ٹرانسپورٹ کی فراہمی میں فوج کو مدد فراہم کی۔ جنگ کے بعد اسے ایڈنبراؤ چڑیا گھر میں رکھا گیا جہاں وہ 21 سال کی عمر تک زندہ رہا۔