شام میں روسی بمباری ، 200 افراد جاں بحق

179
ادلب: شامی خواتین جنگ سے زیادہ متاثر ہونے والے شہریوں میں کھانا تقسیم کررہی ہیں

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) روسی فوج نے شام کے صوبے حمص کے شہر تدمر میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر بمباری کرکے کم از کم 200 ارکان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے مقام کی کئی ذرائع سے تصدیق کے بعد روسی فضائیہ نے حملے کیے۔ ان حملوں میں 2 ٹھکانوں کو تباہ اور 200 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیاگیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی طیاروں نے بھاری مشین گنوں سے لیس 24 پک اپ ٹرک اور دھماکاخیز آلات بنانے کے لیے تقریباً 500 کلوگرام گولہ بارود اور دیگر عسکری سامان کو بھی تباہ کردیا۔ بیان میں گروہ کے نام یا کارروائی کی تاریخ کی وضاحت نہیں کی گئی۔ روسی فوج کا کہنا تھا کہ اس کا نشانہ ایک عارضی اڈا تھا، جہاں عسکریت پسند گروہوں کو شام میں کارروائی کرنے اور دھماکاخیز مواد تیار کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مسلح تنظیموں نے شام میں حملے کرنے کا منصوبہ بنایا، تاکہ 26 مئی کو شیڈول کے مطابق ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل صورت حال کو غیر مستحکم کیا جائے۔ پیر کے روز روسی وزارت دفاع نے اس بات کی تصدیق کی کہ دہشت گرد اسد حکومت کے زیر قبضہ علاقوں میں کئی کیمپوں میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق نے شام کے صحرا میں داعش کے ٹھکانوں پر روسیوں کے شدید حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان حملوں میں 35 دہشت گرد مارے گئے تھے۔ شامی مبصر کے مطابق 72 گھنٹوں کے اندر 220 سے زیادہvg حملے کیے گئے۔