افغانستان خلا اور انخلا کا خوف

256

امریکی صدر جوبائیڈن نے تھوڑی سی سوچ بچار کے بعد آخر کار افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی نئی تاریخ کا اعلان کر دیا۔ اب امریکا کا آخری فوجی یکم مئی کے بجائے گیارہ ستمبر کو افغانستان سے رخصت ہوگا۔ گیارہ ستمبر کی تاریخ میں گہری معنویت ہے اور یہ دن امریکا کے لیے ہی نہیں افغانستان سمیت بہت سے ملکوں اور قوموں کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کے بعد ہی طاقت کے استعمال کے ذریعے امریکا نے ایک نئی دنیا کی تشکیل کے نام پر دنیا کا حلیہ بگاڑنے کا آغاز کر دیا تھا۔ گزشتہ برس قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی نمائندوں اور طالبان کے درمیان ایک تاریخی معاہدے میں یہ طے ہوا تھا کہ امریکا یکم مئی کو افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی طالبان نے امریکا کو کچھ ضمانتیں دی تھیں جن میں امریکا مخالف عسکری گروہوں کو اپنی سرزمین پر پنپنے نہ دینے کی یقین دہانی بھی شامل تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی رخصتی اور جو بائیڈن کی آمد کے بعد دوحہ معاہدے پر شکوک اور غیر یقینی کے سائے منڈلانے لگے تھے۔ جوبائیڈن نے اقتدار سنبھالتے ہی انخلا کی تاریخ اور دوحہ معاہدے کا ازسر نو جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا جس سے طالبان نے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ امریکا کی نئی حکومت افغانستان میں اپنے فوجی قیام کو طول دینے کے لیے حیلوں بہانوں سے کام لے رہی ہے۔ اسی تاثر کے بعد طالبان نے امریکی حکومت کو سخت پیغامات دینا شروع کیے تھے۔ جن میں جنگ بندی کا خاتمہ اور لڑائی کو جاری رکھنا بھی شامل تھا۔ یوں لگتا ہے کہ اس سارے معاملے کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے گیا رہ ستمبر کو انخلا کا حتمی اعلان کیا۔ جوبائیڈن نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ امریکا نے افغانستان میں اپنی آمد کے تمام مقاصد اور اہداف پورے کیے ہیں اور اب اس کے لیے مزید قیام بے مقصد اور خسارے کا سودا ہے۔ جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ہم پر حملہ ہوا تھا اور ہم نے واضح اہداف کے ساتھ جنگ شروع کی تھی۔ ہم نے اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے۔ القاعدہ کو افغانستان میں کمزور کر دیا گیا ہے اب یہ دائمی جنگ ختم کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اس خطاب میں جوبائیڈن نے یہ کہہ کر کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کو کچھ اور کرنا ہے، پاکستان کو ڈومور کا اشارہ بھی دیا۔ امریکا کی طرف سے افغانستان سے انخلا کی نئی تاریخ کے ساتھ ہی دوحہ معاہدے کے ٹوٹنے کے خطرات کم ہوگئے۔ اس سے پہلے طالبان نے استنبول مذاکرات سے الگ رہنے کی ملفوف دھمکی تھی۔
یہ ایک زمینی حقیقت ہے کہ طالبان کے بغیر افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے ہونے والی کسی کوشش کی چنداں اہمیت نہیں۔ ایک طرف امریکی صدر نے افغانستان میں اپنے تمام مقاصد حاصل کرنے کا اعلان کرکے اپنے انخلا کو فاتحانہ رنگ دینے کی کوشش کی ہے تو دوسری طرف برطانوی نشریاتی ادارے نے ایک طالبان لیڈر کی گفتگو نشر کی ہے جس نے اعتماد کے ساتھ دعویٰ کیا ہے کہ امریکا افغانستان کی جنگ ہار چکا ہے اور طالبان یہ جنگ جیت چکے ہیں۔ اسی دوران امریکا کے معروف اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک طویل مضمون میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل کا ایک بیان شائع کیا ہے جس میں جنرل حمید گل کہتے ہیں کہ مورخ لکھے گا کہ پاکستان نے امریکا کی مدد سے افغانستان میں سوویت یونین کو شکست دی اور یہ بھی لکھے گا کہ پاکستان نے امریکا کی مدد سے افغانستان میں امریکا کو شکست دی۔ جنرل حمید گل کی 2016 میں ہونے والی یہ پیش گوئی اب ایک نئے خوف اور بے چینی کی بنیاد بن رہی ہے۔
امریکا میں میڈیا کا ایک حصہ جو حقیقت میں سخت گیر سوچ کی ترجمانی کرتا ہے اس خوف کو ہوا دے رہا ہے کہ امریکا کے مکمل فوجی انخلا کا مطلب افغانستان کو طالبان کے حوالے کرنا ہے اور طالبان کا مطلب افغانستان میں پاکستان کے اثر رسوخ کی بحالی ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے جوبائیڈن کے اعلان پر کہا ہے کہ مسٹر بائیڈن نے آسان راستہ چنا ہے مگر اس کے تباہ کن اثرات ہوں گے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس فیصلے سے امریکا کو مشکلات ہوں گی۔ یہ ایک ’’اسٹرٹیجک گیمبل‘‘ یعنی تزویراتی اور تدبیری جوا ہے۔ نیو یارک ٹائمزنے بھی اسی قسم کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد گروپوں کو طویل وقت تک دوبارہ مجتمع ہونے سے روکنا ناممکن ہوگا۔ واشنگٹن پوسٹ نے امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے خیالات کو بھی جگہ دی ہے۔ حسین حقانی کا کہنا ہے کہ امریکی انخلا کے بعد پاکستان اور بھارت دونوں افغانستان میں ایک دوسرے کے خلاف لگے رہیں گے اور طالبان کے افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان کے نظریات پاکستان کی ریاست پر بھی حاوی ہوں گے جو طالبان سے گہرے روابط رکھتا ہے۔ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلا کے طالبان کے ذریعے پر ہونے کے خوف میں امریکی اسٹیبشلمنٹ کا سخت گیر گروہ، حسین حقانی تنہا نہیں بلکہ اس میں بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت بھی شامل ہیں۔ جنرل راوت نے ایک سیکورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا میں بھارت کے لیے پریشانی کی دو وجوہات ہیں۔ اول یہ کہ انخلا سے جو خلا پیدا ہوگا اسے طالبان پر کریں گے۔ نئے سیٹ اپ میں طالبان کا غالب حصہ ہوگا تو اس سے لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے دہشت گرد گروپوں کو دوبارہ مجتمع ہونے کا موقع ملے گا جو کشمیر میں سرگرم رہ چکے ہیں یوں اس کے اثرات براہ راست کشمیر پر پڑیں گے جہاں بھارت تین دہائیوں سے لڑ رہا ہے۔ بپن راوت نے نام لیے بغیر کہا کہ امریکا کے فوجی انخلا کو بہت سی قوتیں اپنے لیے ایک بہتر موقع کے طور پردیکھ رہی ہیں۔ یوں ایک طرف امریکا کی مجبوریاں اور حالات اسے افغانستان سے چلے جانے کی راہ پر دھکیل رہے ہیں تو دوسری طر ف بھارت سمیت کئی قوتیں ’’اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر‘‘ کے انداز میں امریکی فوجیوں کی وردیوں کا دامن پکڑ کر ان سے انخلا نہ کرنے کی درخواست کر رہے ہیںکیونکہ امریکی چھتری تلے ان قوتوں نے افغانستان میں جو گل کھلائے ہیں یہ چھتری ہٹتے ہی وہ سب کچھ عیاں ہو کر دنیا کے سامنے آئے گا۔