پہلا پتھر تو پھینکیں

309

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ایک بار پھر وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری والا بیانیہ پیش کیا ہے کہ اگر فرانس سے تعلق توڑا تو اس کا مطلب یورپی یونین سے تعلق توڑنا ہوگا۔ وزیراعظم نے جس خدشے کا اظہار کیا ہے وہ یہی ہے کہ پاکستان کی نصف ٹیکسٹائل برآمدات یورپی یونین کے ممالک میں جاتی ہیں اگر ہم فرانسیسی سفیر کو نکالیں گے تو آدھی برآمدات ختم ہوجائیں گی۔ فیکٹریاں بند ہوجائیں گی، ملک میں بیروزگاری بڑھ جائے گی، ہمارے روپے پر بھی دبائو بڑھے گا، پھر مہنگائی ہوگی اور غربت بڑھے گی اس سے فرانس کو تو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ وزیراعظم کا بیان مسلسل دوسرے دن حکومت کی جانب سے تنگ دستی کا خوف دلانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مغرب ایک ایجنڈے کے تحت یہ سارے کام کررہا ہے اور اگر فرانسیسی سفیر کو نکالا گیا تو کم و بیش ایسا ہی ہوگا جیسا خدشہ وزیراعظم اور وزیر مذہبی امور ظاہر کررہے ہیں۔ لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان جدید ریاست مدینہ کے دعویدار حکمرانوں کی جانب سے جس طرز عمل کا اظہار کیا جارہا ہے وہ تو سراسر خلاف اسلام ہے۔ اگر معاشی تنگی کا خدشہ ہے بھی تو کم از کم شیطان کی طرح فقر و فاقے کے خدشات سے قوم کو ڈرائیں تو نہیں۔ سورہ توبہ آیت 28 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اے ایمان والو مشرک تو ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں۔ اور اگر تمہیں تنگدستی کا خوف ہے تو بعید نہیں کہ اللہ چاہے تو تمہیں اپنے فضل سے سخی کردے اللہ حکیم و علیم ہے۔‘‘ یہ طرز عمل کسی طور بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں کا نہیں ہونا چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان جو کچھ کہہ رہے ہیں اور جن عزائم کا اظہار کررہے ہیں وہ اب تک باتوں کی حد تک ہیں۔ وزیراعظم کا خیال ہے کہ کچھ اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر وہ فرانس اور یورپ پر دبائو بڑھائیں گے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی حکمران کسی قومی پالیسی پر ہی یکسو رہیں کبھی ایران کے دبائو میں سعودی عرب کے خلاف کبھی امریکی دبائو پر ایران کے خلاف اور کبھی بھارت کے لیے سجدے تک جھکائو۔ ایسے ملک کی بات پر کون توجہ دے گا اور کون اس کے ساتھ کسی علاقائی یا اسٹرٹیجک اتحاد میں شامل رہے گا۔ جب قومی پالیسی کے حوالے سے کوئی ٹھوس موقف نہیں ہے تو شان رسالتؐ کے مسئلے پر کسی اتحاد یا پریشر گروپ کے لیے پاکستان کے حکمرانوں کی بات کون سنے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس معاملے میں ساری خرابی خود حکومت کی پیدا کردہ ہے، ہر کام عارضی بنیادوں پر کیا جاتا ہے، پہلے تو احتجاج روکا جانا مقصد ہوتا ہے اس وقت ہر بات مان لی جاتی ہے، پھر طاقت استعمال کی جاتی ہے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سارے ملک کا بیڑا غرق ہوجاتا ہے۔ زیر بحث مسئلہ ایک جانب حکومت کے دعوئوں اور اس کی صلاحیت کو بے نقاب کررہا ہے تو دوسری طرف امت مسلمہ کا لیڈر بننے کا موقع بھی فراہم کررہا ہے۔ اگر عمران خان ان کے وزیر داخلہ شیخ رشید اور کابینہ کے دیگر ارکان اسی قسم کی دو عملی کا شکار رہے تو یقینا ایسی صورت میں بھی ملک کا نقصان ہوگا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ حکومت معیشت اور ایمان میں سے ایک کا انتخاب کرلے۔ عمران خان یا حکومت کا یہ خیال درست ہے کہ فرانسیسی سفیر کو نکالا تو ملکی برآمدات پر پابندی کا خدشہ ہے۔ لیکن انہیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ جتنی برآمدات پاکستان یورپی یونین کے ممالک کو کرتا ہے اس سے کچھ کم یورپ سے درآمد بھی کرتا ہے۔ کسی پابندی کی صورت میں درآمدات بھی بند ہوں گی، یقینا پاکستان کے ساتھ یورپی یونین کو بھی کچھ نقصان برداشت کرنا ہوگا۔ جس طرح یہ حقیقت ہے کہ فرانس کے سفیر کو نکالنے سے معاشی نقصانات ہیں اس سے بڑی اور زیادہ سچی حقیقت اللہ کا وعدہ ہے۔ کہ اگر تمہیں تنگ دستی کا خوف ہے تو بعید نہیں کہ اللہ اپنے فضل سے تمہیں سخی کردے۔ ہمارے حکمرانوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کون سی حقیقت کی طرف جاتے ہیں۔ ایک عارضی ہے اور دوسری دائمی اور اٹل۔ مسئلہ یہی ہے کہ حکمران ایمان کے ساتھ فیصلہ تو کریں، لیکن انہیں اللہ کے وعدے پر یقین نہیں ہے، شیطان کے تنگ دستی کے خدشات میں مبتلا ہیں۔ اتفاق سے مشرکین کو ناپاک قرار دے کر انہیں مسجد حرام کے قریب بھی نہ پھٹکنے دینے کی بات اور آج کے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کی بات کم و بیش ایک جیسی ہوگئی ہیں بلکہ سنگینی کے اعتبار سے فرانسیسی حکومت زیادہ بڑی مجرم ہے۔ جس وقت یہ حکم دیا گیا تھا اس وقت تو مدینے کی ریاست بہت کمزور تھی نئی نئی تھی لیکن وقت کی بڑی طاقتوں پر پابندی لگادی تھی اس وقت بھی یہی کہا گیا تھا کہ تنگ دستی کا خوف نہ کرو آج بھی یہی پیغام ہے کہ تنگ دستی کا خوف نہ کیا جائے۔ پاکستانی حکمران جن میں فوج اور تمام ادارے عدلیہ وغیرہ سب شامل ہیں جب تک ایمان اور معاش میں سے ایک کا فیصلہ نہیں کرلیتے اس وقت تک وہ اس مخمصے سے نہیں نکل سکیں گے۔ ویسے بھی کون سے خوشحالی کے دور میں ہیں کہ ہر طرف روزگار ہے، پیسوں کی ریل پیل ہے، اس کو بچانے کی فکر کی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے درست کہا کہ یورپ کی جانب سے گستاخی کا جواب 50 مسلمان ملکوں کی جانب سے تجارتی بائیکاٹ ہے۔ لیکن جناب وزیراعظم صاحب پہلا پتھر تو ماریئے۔ اگر پچاس ممالک کو ساتھ لے کر چلنا ہے تو قیادت کا فریضہ ہی انجام دیں اس مسئلے پر 50 ممالک کی کانفرنس ہی طلب کرلیں۔ بائیکاٹ کا اعلان سے قبل پاکستان میں فرانسیسی اشیا اور کمپنیوں کے نام مشتہر کردیں۔ لوگوں کو یہ پیغام دیں کہ یہ کمپنیاں فرانس کی ہیں یہ مصنوعات فرانس کی ہیں اور ہم اپنے نبیؐ کی شان میں گستاخی کرنے والے ملک کی مصنوعات کی سرپرستی نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ سب کرنے کے بجائے پہلے ہی مرحلے میں ہمارے حکمران تنگ دستی کا خوف پیدا کررہے ہیں۔ ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ پہلے ہی مرحلے میں فرانسیسی سفیر کو نکال دیا جاتا۔ ایران، ترکی اور عرب ممالک کو ساتھ ملایا جاتا، ملائیشیا اور انڈونیشیا کو ہلا جاتا۔ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے اس فارمولے کے تحت یورپ کے دشمن کو استعمال کیا جاتا۔ لیکن اس میں سے کچھ بھی نہیں ہوا۔ دراصل مسلم حکمرانوں نے حکمرانی کا مطلب اپنے نہتے عوام پر طاقت کے ذریعے حکمرانی سمجھا ہوا ہے۔ جب کسی ملک کی حکمرانی حاصل ہوجائے تو صرف اپنے ملک کے معاملات نہیں دیکھنے ہوتے پاس پڑوس اور عالمی معاملات پر بھی نظر رکھنی ہوتی ہے۔ ایک مسلم حکمران اول و آخر مسلم ہوتا ہے اس کے لیے اپنے نبی کی شان ہر شے سے بالا ہے، لہٰذا یہ معمولی نکتہ سمجھنے میں جو اتنی تاخیر کرے اس کے ایمان ہی میں کوئی خامی ہوسکتی ہے۔ ایک بات اور سمجھ لی جائے، ہمارے حکمران طاقت صرف اپنے عوام پر استعمال نہ کیا کریں کچھ کشمیر میں، کچھ اسرائیل میں، ورنہ تو امت کے ضرورت مندوں کی مدد کے لیے اپنی طاقت استعمال کریں۔ اس طاقت کا حساب بھی دینا تو ہوگا۔