رمضان کے اثرات دیگر مہینوں میں نظر نہ آنے کی وجہ ہماری ظاہر پسندی ہے

160

کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) رمضان المبارک کے اثرات دیگر مہینوں میں نظر نہ آنے کی وجہ ہماری ظاہر پسندی ہے‘ روزے روایت سمجھ کر رکھے جاتے ہیں‘ مقدس مہینے کے رخصت ہوتے ہی تزکیہ نفس کے جذبات کو یکسر فراموش اور اعمال صالح کا سلسلہ ترک کردیا جاتا ہے‘ میڈیا نے رمضان کو کھانے پینے کا مہینہ بنا دیا‘ درود شریف، عبادات کو نظرانداز کردیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر پروفیسر قبلہ ایاز، امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی اور خادم علی شاہ بخاری انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ( کیسبٹ) کے ڈائر یکٹر پروفیسر ڈاکٹر سید کرامت اللہ حسینی نے جسارت کی جانب سے پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’رمضان المبارک کے بعد ہماری زندگی پر رمضان کے اثرات کیوں نظر نہیں آتے؟۔ پروفیسر قبلہ ایاز نے کہا کہ پاکستان سمیت پورے خطے میں اسلام کے حوالے سے ہم ظاہری اعمال، عبادات اور ظاہری وضع قطع جیسے لباس، طعام، زبان اور طرزِ زندگی پر زیادہ زور دیتے ہیں ‘ جو دین اسلام کی اصل روح ہے ہم اس کی طرف نہیں آتے‘ ایک تو جو ہمارا نصاب ہے اس میں بھی زیادہ تر زور ظواہر پر ہے پھر منبر و محراب ہے‘ جہاں سے ذہن سازی ہوتی ہے‘ وہاں پر بھی ہماری زیادہ تر جو تبلیغ کی جاتی ہے‘ ان میں بھی ظواہر پر زور دیا جاتا ہے جو لٹریچر ہمیں پڑھایا جاتا ہے اس میں بھی ظواہر پر بڑا زور دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے لمحہ فکر ہے کہ رمضان المبارک کے رخصت ہوتے ہی تزکیہ و تطہیر نفس کے جذبات یکسر فراموش اورصبر وضبط کا بندھن ٹوٹ جاتا ہے‘ نیکیوں اور اعمال صالح کو ترک کردیا جاتا ہے‘ یہ تمام کام درحقیقت رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے محرومی کا ذریعہ بنتے ہیں‘ ہمیں سال کے باقی مہینوں میں بھی کوشش کرنی چاہیے کہ نیکی کی یہ روش پورے سال جاری رہے‘ ایک مومن کو روزہ کی حالت میں جو خوف خدا ہوتا ہے‘اس کا اثر اس پر پورے 11 ماہ رہنا چاہیے‘ اس کی عبادت، تجارت، لین دین، چلنا پھرنا، حلال و حرام میں نہ صرف تمیز بلکہ مشتبہ چیزوں سے بھی اجتناب کرنا چاہیے‘ اگر یہ سوچ ایک مسلمان کی زندگی کے 11 مہینوں میں بھی رہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ روزے کے مقاصد حاصل ہو چکے۔ مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ بنیادی طور پر رمضان المبارک کا جو اصل فلسفہ ہے لوگ اس سے شعوری طور پر آگاہ نہیں ہیں اور اس حوالے سے ناقص معلومات رکھتے ہیں اور رمضان المبارک کو ایک روایتی ماحول کا ایک حصہ سمجھ کر روزے رکھے جاتے ہیں‘ لوگوں میں رمضان المبارک کے حوالے سے یہ سوچ ہے کہ یہ ایک عبادت ہے جو ہمیں کرنی چاہیے‘لیکن ظاہر ہے ہر عبادت کے پیچھے کوئی مقصد ہوتا اور تربیت ہوتی ہے جو اگر ملحوظ نہ رکھی جائے تو اس کے اثرات انسانی طبیعت اور اعمال پر ظاہر نہیں ہوتے ہیں‘ اسی طرح رمضان المبارک کا بھی اپنا ایک فلسفہ ہے کہ مسلمان کے اندر صبر و تحمل اور برداشت کے جذبات کو اجاگر کرنا اور نفس کی خواہشات پر قابو پانا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر کرنا اور معاشرے میں بھوک وافلاس کو سمجھنا ہے تاکہ غربت کا شکار لوگوں کے حقوق ادا کیے جاسکیں‘ ہمارے میڈیا نے رمضان المبارک کو کھانے پینے کا مہینہ بنا دیا ہے‘ آئے دن نت نئے اشتہارات آتے ہیں جن میں نئے نئے مصالحوں اور نئے نئے پکوانوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے‘ اخبارات بھی اسی طرح کے سپلیمنٹ شائع کرتے ہیں جن میں افطاری کو دلچسپ اور سحری کو غذائیت سے بھر پور بنانا بتایا جاتا ہے‘ اس کے نتیجے میں رمضان المبارک کا اصل فلسفہ کہیں گم ہوجاتا ہے‘ شغل کے طور پر سحری بھی کھانی ہے ‘ آدھا دن جیسے ہی گزرے افطاری کی تیاری شروع کرنی ہے تو یہ جو ماحول ہے‘ اس کے نتیجے میں درود شریف اور عبادتوں کی جانب متوجہ ہی نہیں ہوا جاتا‘ اگر عبادات کیطرف متوجہ ہوں گے تو اس کے اثرات ہماری زندگی پر مرتب ہوںگے اور ہمارے تعلیمی اداروں، تربیت گاہوں، میڈیا اور ہماری مجالس میںسب یہ چیزیں ہمیشہ غالب رہیں گی تو شاید اس کے اثرات مرتب ہو ں۔ سید کرامت اللہ حسینی نے کہا کہ ہمارے لاشعور میں یہ بات پیوستہ کر دی گئی ہے کہ رمضان میں ہم پر عبادات و معاملات کی بہتری لازم ہے جو دیگر 11مہینوں میں ضروری نہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ برائی کا وبال اور اللہ کی ناراضگی سے ہر وقت بچنے کی کوشش کرنی چاہیے‘وہ لوگ بہت خوش نصیب ہوتے ہیں جو لوگ رمضان کی نیک عادات 11مہینوں میں بھی جاری رکھتے ہیں۔ دراصل جب ہم اپنے معاشرے میں اچھے اقدار و اخلاق کو پرورش چڑھائیں گے تو ہمارے ماحول میں بہتری اور اسلام کے سنہری اصول رائج ہو ں گے‘ میرے نزدیک رمضان اور دیگر مہینوں کے معاملات میں فرق صرف اس لیے آتا ہے کہ ہم نے عبادت کے لیے کچھ اوقات، دن اور مہینے مقرر کر لیے ہیں‘ ان کے علاوہ ہم اپنے آپ کو عبادات سے آزاد سمجھتے ہیں جب کہ مسلمان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ عبادت سے جڑا ہوا ہے اس لیے انہیں یہ اوقات اللہ کے حکم اور نبیؐ کے طریقے پر گزارنے چاہئیں۔