اراضی پر قبضوں میں ملوث ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے برطرف

108

کراچی (رپورٹ: محمد انور) حکومت سندھ نے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں اربوں روپے مالیت کی سیکڑوں ایکڑ اراضی پر قبضہ ختم کرانے میں ناکامی پر موجودہ قائم مقام ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل عبدالناصر خان کو فوری عہدے سے برطرف کردیاہے۔ خیال رہے کہ ناصر خان پر ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی مختلف اسکیموں کی مجموعی طور پر 802 ایکڑ اراضی کا قبضہ ختم نہ کرانے الزام ہے جبکہ یہ بھی واضح رہے کہ مذکورہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل گریڈ 19 کے افسر ہیں اور عدالت عظمیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی گریڈ 20 کی اسامی پر مسلسل خدمات انجام دے رہے تھے حالانکہ ان سمیت ادارے کے دیگر افسران کے خلاف محکمہ جاتی انکوائری بھی کی جاری ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق محکمہ بلدیات و شہری منصوبہ بندی اور رہائش نے 19 اپریل کو ڈائریکٹر جنرل ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو لکھے گئے خط میں ادارے کے گریڈ 19 کے ڈائریکٹر فنانس پبلک ہاؤسنگ عبدالناصر خان کو جو ان دنوں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی گریڈ 20 کی اسامی پر او پی ایس کی بنیاد پر متعین ہیں کا ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کا چارج منسوخ کرنے کی ہدایت کی ہے، محکمہ ہاؤسنگ کے سیکشن آفیسر علی گل جلبانی کے دستخط سے جاری کیے جانے والے حکم میں ہدایت کی گئی کہ ناصر خان کی جگہ ایم ڈی اے کے کسی گریڈ 20 کے سینئر آفیسر کو ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی اسامی پر تعینات کیا جائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب سے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی اسامی پر او پی ایس کی بنیاد پر جونیئر افسر ناصر خان تعینات تھے اس وقت سے مبینہ طور پر ایم ڈی اے کی مختلف اسکیموں کے تجارتی رہائشی اور رفاہی پلاٹوں پر قبضوں کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ اراضی پر قبضوں اور ہیرپھیر میں ملوث ہونے کے الزام میں ادارے کے 5 افسران معطل بھی کیے جاچکے ہیں تاہم ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ناصر خان کے خلاف احکامات کے باوجود کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جاسکی تھی جس کی وجہ ادارے سے وابستہ ایک بڑے افسر کی پشت پناہی بتائی جاتی ہے۔