کورونا کے باعث نئی دہلی میں مکمل لاک ڈائون

145
نئی دہلی: لاک ڈاؤن یقینی بنانے کے لیے پولیس اہل کار گاڑیوں کو روک رہے ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں کورونا وائرس کی سنگین صورت حال کے تناظر میں دارالحکومت میں 26 اپریل تک سخت لاک ڈاؤن لگادیا گیا۔ نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کا کہنا تھا کہ صحت کی صورت حال ہر گزرتے وقت کے ساتھ نازک ہوتی جارہی اور اگر لاک ڈاؤن نافذ نہ کیا گیا تو ملک کو بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق راجستھان، بہار اور تمل ناڈو میں بھی رات کے کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے۔ 24 گھنٹے کے دوران25 ہزار سے زیادہ نئے کیس سامنے آنے پر حکومت ہل گئی ہے۔ دارالحکومت میں اسپتالوں میں بستر اور آکسیجن کی شدید قلت کے باعث وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت سے مدد کی اپیل کر دی ہے۔ جانچ کے دوران ہر 3میں سے ایک شخص کا ٹیسٹ مثبت آرہا ہے۔ شہر میں 2کروڑ سے زائد لوگوں کے لیے 100 سے بھی کم انتہائی نگہداشت کے بستر باقی بچے ہیں۔دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث اپنا دورہ منسوخ کر دیا۔ جانسن کے اس دورے کو بریگزٹ کے بعد برطانیہ کی ایک تجارتی مہم کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ جانسن کو بھارت کا یہ ایک روزہ دورہ 26اپریل کو ہونا تھا۔ اس سے قبل جنوری میں بھی برطانوی وزیر اعظم نے اپنا دورہ ملتوی کر دیا تھا۔ ادھر بھارتی اپوزیشن کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے گزشتہ برس کے بحران سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ مودی سرکار اسپتالوں کی حالت بہتر بناتے ہوئے ان میں توسیع کرتی تو مریضوں کو بستروں کے لیے مارے مارے نہ پھرنا پڑتا۔ واضح رہے کہ کورونا کی شدید لہر کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ ریاستی انتخابات کے لیے اپنی انتخابی مہم بند جاری رکھی اور بڑی بڑی ریلیوں سے خطابات میں مصروف ہیں۔ اس کے برعکس راہول گاندھی نے مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات سے متعلق اپنی تمام عوامی ریلیوں کو منسوخ کر دیا اور ریاستی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے بھی کولکتہ میں انتخابی مہم معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔