ہوشربا مہنگائی کے فوائد

212

ہم لوگوں میں ایک اچھائی بہت کم پائی جاتی ہے وہ یہ کہ ہم ہر چیز کا مثبت پہلو نہیں دیکھتے اور اگر یہ ہمیں دکھائی نہ دے تو ہم اس کو تلاش کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ اس کی ایک موجودہ اور سلگتی مثال ’’جان لیوا‘‘ مہنگائی ہے جس کے خلاف ہر چینل پر بلائے جانے والے اکثر معزز مہمانان خوب ’’شورشرابہ فرماتے‘‘ ہیں، وہ اپنے اسی وتیرے کی بنیاد پر نام کماتے ہیں، صاحبان اختیار کو ٹکے ٹکے کی سناتے ہیں، کبھی دشنام طرازی کرتے ہیں، کبھی ’’نیازی نیازی‘‘ کرتے ہیں، یوں سیاست بازی کرتے ہیں۔ ان کا یہ طرزِ عمل اکثر عوام کو نہیں بھاتا، ان میں سے کوئی بھی مہنگائی میں کمی کا طریقہ نہیں بتاتا۔ یوں مہنگائی کا صرف منفی پہلو اْجاگر ہوتا ہے۔
بلا شبہ ہم ایک جفاکش، محنتی اور صابر و شاکر قوم کے باشندے ہیں۔ ہمیں ’’مثبت زاویہ فکر‘‘ اپنانا چاہیے اور یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ ہم منفی رویوں کے ذریعے ’’فلک سے ہم کلام‘‘ مہنگائی کے قد کو بقدرِ انگشت پست کرنے کے قابل نہیں ہو سکیں گے پھر بھلا خود کو ذہنی تناؤ کا شکار کرنے سے کیا فائدہ۔ آئیے، مثبت زاویہ نظر اپنائیے اور حال مست، کھال مست قسم کے شہری بن جائیے۔
آپ سوچتے ہوں گے کہ بھلا اس منہ پھاڑ مہنگائی کا مثبت روپ کیا ہو سکتا ہے تو اس کے لیے چند ’’حقائق‘‘ پیش کیے جا رہے ہیں جو یقینا آپ کی آنکھوں سے اوجھل رہے ہوں گے کیونکہ یہ ’’حقائق‘‘ صرف انہی کو نظر آتے ہیں جنہیں ’’چشمِ بینا‘‘ میسر ہوتی ہے۔ اگر آپ کے پاس ’’بینا کی آنکھ‘‘ نہیں تو ہمارے پاس تو ہے۔ ہم اسی ’’بینا‘‘ آنکھ سے دیکھا حال پیش کر رہے ہیں۔ اسے پڑھ کر آپ کو مہنگائی کا مثبت پہلو نمودار ہوتا محسوس ہوگا۔ عرض ہے کہ:
’’مہنگائی نے ہمارے سیاسی رہنماؤں، ٹی وی اینکروں اور ٹاک شوز کے میزبانوں کو ’’لب کشائی، لفظی مارکٹائی اور ہرزہ سرائی کے لیے عوامی اہمیت کا موضوع عطا کر دیا ہے۔ مہنگائی نے ہمارے اندر من حیث القوم ایسا شعور بیدار کر دیا ہے کہ ہم ہر کسی شے سے انتہا پسندی کی حد تک استفادہ کرنے لگے ہیں مثلاً غور فرمائیے کہ ارزانی کے دور میں گنے سے رس نکالنے کے لیے اسے ایک مرتبہ مشین میں پیلا جاتا تھا مگر اب تین مرتبہ گنے کو پیلنے کے بعد چوتھی مرتبہ اس کے پھوک کو پانی میں ڈبو کر پھر مشین سے پیلا جاتا ہے۔ اس کے بعد جو کچھ بچتا ہے اس میں گنے پن یا بالفاظِ دیگر ’’گَنّیت‘‘ کا شائبہ تک نہیں رہتا۔ اسی طرح ارزانی کے دور میں جب موٹر سائیکل چلا کرتی تھی تواس پر زیادہ سے زیادہ دولہا دلہن، جوڑا ذرا پرانا ہوتا تو میاں بیوی اور ایک بچہ، اگرجوڑا پرانا دھرانا ہوتا تو زن و شو اور 2بچے بیٹھ جاتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ بیگم کئی برس پرانی ہوگئیں اور ادھر مہنگائی نے کمر بھی توڑدی چنانچہ جورو کے درجے پر فائز اہلیہ اپنے خصم اور 6بچوں کے ساتھ اس دو پہیوں والی سواری پر ’’نقل و حمل‘‘ کی عملی شکل بنی نظر آنے لگی۔
وقت گزرا تو مہنگائی شدید تر ہوگئی۔ موٹر سائیکل پر سفر بھی ’’امیروں کا وتیرہ‘‘ قرار پانے لگا۔ اس صورتحال کا مثبت اثر یہ ہوا کہ نسلِ نو کے اذہان میں اختراعی صلاحیتیں عودآئیں۔ انہوں نے موٹر سائیکل کے کاندھوں پر رکشہ کی باڈی سوار کرکے اسے ’’چنگ چی‘‘ کا نام دے دیا۔ اس میں چار انسان بآسانی بیٹھ کر سفر کرتے تھے۔ پھر مہنگائی مزید منہ زور ہوئی تو اس چنگ چی میں سوا درجن صحت مند اور 2درجن کمزور افراد آرام سے سفر کرنے لگے، ہوشربا مہنگائی میں سستی سواری میسرآنے سے لوگوں کے پیسے بچنے لگے۔ ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ بہت سے بڑے اور نوجوان جو ایک دوسرے کے ہمسائے ہونے کے باوجود مصروفیت کے بہانے ایک دوسرے کی شکل نہیں دیکھتے تھے اب چنگ چی میں سفر کے دوران چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہونے کے انداز میں معانقہ کرنے اور گاہے گود میں سوار ہونے کے عادی ہونے لگے۔ چنگ چیاں عام ہونے کے باعث ایک مثبت بات یہ سامنے آئی کہ لڑکے کی ماں بہنوں کو لڑکی دیکھنے کے لیے گھر گھر جانے کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ وہ چنگ چی میں ہی لڑکی کونہ صرف پسند کر لیتی تھیں بلکہ اس کے ’’قدو قامت، دبلاپے، مٹاپے، وزن اور بے وزنی‘‘ کو بھی جانچ لیتی تھیں۔ یہی نہیں بلکہ سرگوشی کے انداز میں کی جانیوالی گفتگو کے دوران یہ بھی جان لیتی تھیں کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔
حکومت کی جانب سے پابندی عائد کیے جانے کے بعد چنگ چیوں کی جگہ سجے بنے، بجتے بجاتے، ہنستے ہنساتے، گاتے سناتے جہازی رکشوں نے لے لی۔ ’’کڑیل مہنگائی‘‘ کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ ہمارے ہاں بہت سے لوگوں کی گردنوں میں پائی جانے والی اکڑاہٹ انتہائی کم ہوگئی۔ پہلے یہ لوگ بڑی بڑی گاڑیوں میں بھوں کر کے پاس سے گزر جاتے تھے۔ سلام کرو تو جواب دینے کی انہیں توفیق نہیں ہوتی تھی مگر ’’بھلا‘‘ ہو اس گرانی کا کہ اب ان لوگوں کی جیبیں گاڑی میں پٹرول ڈلوانے کی اجازت دینے سے قاصر ہوچکی ہیں چنانچہ وہ کاریں گھر پر چھوڑ کر رکشہ، بس اور ویگن وغیرہ میں لٹک پٹک کر سفر کرنے میں عافیت سمجھنے لگے ہیں۔ اس ’’تبدیلی‘‘ کا ایک سبب انتہائی خوبصورت رکشوں کا استعمال اور بے پروا حْسن و جمال بھی ہے۔ اب وہی ’’کاردار‘‘ ہستیاں جو پہلے سلام کا جواب بمشکل دیتی تھیں، اب کہیں ویگن میں ’’مرغا‘‘ بنی یا رکشے میں اپنی نشست پر ٹھنسی دکھائی دیتی ہیں تو ہمارے سلام کا جواب اتنی محبت سے دیتی ہیں کہ پوچھو نہیں۔ یوں اس کمر توڑ مہنگائی نے امیروں اور غریبوں کو باہم شیرو شکر کر دیا اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی ’’محبت‘‘ بیدار کردی۔
نسلِ نو میں حیران کْن مہنگائی کے باعث قناعت کا رجحان پروان چڑھ رہا ہے۔ پہلے ہمارے ہاں بھانجیاں بھتیجیاں آجاتی تھیں تو ان کے لیے ہم مرغ مسلم، بمبئی بریانی، پشاوری کباب، ملتانی حلوہ، حیدرآبادی ربڑی، کہیں کی نہاری اور شاہانی پیڑے منگواتے مگر پھر بھی انہیں شکوہ ہوتا تھاکہ انکل نے پھل نہیں کھلائے۔ آج ہوشربا مہنگائی کی بدولت ان کے ’’ہوش ٹھکانے‘‘ آگئے ہیں۔ اب وہی بھانجیاں بھتیجیاں ہمارے گھر آتی ہیں، ہم ان سے دریافت کرتے ہیں کہ بیٹیو، چائے پیو گی تو جواب ملتا ہے کہ نہیں انکل! تھینک یو۔ اس کے بعد وہ گھر جا کر چہک چہک کر اپنے ابا اور امیوں، ہمسائیوں، سہیلیوں اور جان پہچان والیوں میں ڈھنڈورا پیٹتی پھرتی ہیں کہ’’ ہیلو! بی لِیو می! آئی سویر، کل جب ہم اپنے انکل کے ہاں گئے تو انہوں نے سچ مچ ہمیں چائے کے لیے پوچھا تھا، ہم ہی نے انکار کردیا ورنہ وہ تو چائے پلانے کے لیے دل و جان سے تیار تھے۔ یہ سن کر ان کی سہیلیاں دل ہی دل میں یہ سوچ کر ’’حسد اور رشک‘‘ کرنے لگتی ہیں کہ ’’ان کے انکل کتنے ’’امیر‘‘ آدمی ہیں‘‘۔
یہاں ہم نے مہنگائی کے ’’مثبت اثرات‘‘ کی شکل میں رونما ہونے والی چند ایک معاشرتی تبدیلیوں کا ذکر کیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ مہنگائی نے ہمارے معاشرے کی کایا ہی پلٹ کر رکھ دی ہے۔ ہماری اخلاقیات، سوچ، ذہنیت، گفتگو، میل جول اور لین دین سب ہی بدل ڈالا ہے۔ مہنگائی کے خلاف ’’زبان درازی‘‘ کرنے والوں سے ہماری گزارش ہے کہ برائے مہربانی ’’چشمِ بینا‘‘ سے کام لیجیے تاکہ ’’حقائق‘‘ سے آگہی ہو سکے۔