لاہور آپریشن کیخلاف ملک گیر شٹرڈائون ہڑتال تاجر تنظیموں کی ریلیاں ،شیخ رشید اور عثمان بزدار کے استعفے کا مطالبہ

199
کراچی:مذہبی جماعتوں کی ہڑتال کے موقع پر صدر میں مارکیٹیں بند پڑی ہیں

کراچی /لاہور/راولپنڈی /اسلام آباد/کوئٹہ /پشاور/مظفرآباد(اسٹاف رپورٹر+نمائندگان جسارت+خبر ایجنسیاں)لاہور آپریشن کے خلاف مفتی منیب الرحمن کی اپیل پر کراچی ، لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی۔اس دوران تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز اور مارکیٹیں بند رہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھااور دفاتر میں حاضری متاثر رہی۔ بعض مقامات پر مظاہرین نے ٹائروں کو آگ لگا کر سڑک بند کرکے احتجاج کیا۔کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن اور بلدیہ میں مشتعل افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ اورنگی ٹاؤن ایک نمبر قذافی چوک پرمظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی ، پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کرکے مظاہرین کو متعد د مرتبہ منتشر کیا تاہم مظاہرین ہر تھوڑی دیر بعد جمع ہو کر احتجاج شروع کر دیتے۔ بلدیہ ٹاؤں میں بھی پولیس نے شلنگ اور لاٹھی چارج کر کے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تاہم مظاہرین نے حب ریوور روڈ پر دھرنا دیا ،رات گئے مظاہرین کی بڑی تعداد دھرنے میں موجو د تھی ۔ لاہور واقعے کیخلاف کراچی بار نے سٹی کورٹ میں یوم سیاہ منایا۔مختلف تاجر تنظیموں نے لاہور واقعے کے خلاف بازاروں میں ریلیاں بھی نکالیں۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ علما کرام سے یکجہتی کرتے ہوئے ہڑتال کی گئی۔آل پاکستان انجمن تاجران اور مرکزی تنظیم تاجران نے فرانسیسی سفیر کو فوری ملک بدر کرنے ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کو عہدے سے ہٹانے اور لاہور واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔پنجاب بھر میں مذہبی جماعتوں ،وکلا ،تاجروں ،سول سوسائٹی اور مختلف مکاتب فکر نے کالعدم تحریک لبیک سے بھر پور یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے مکمل پہیہ جام اور شٹر ڈائون ہڑتال میں حصہ لیا۔ پاکستان بار کونسل کی کال پر وکلانے ہڑتال اور کچہری چوک میں احتجاجی مظاہر ہ کیا ۔راولپنڈی میں بھی ’’یوم تحفظ ختم نبوت‘‘ کے طور پر منایا گیا،عوام کی بڑی تعداد وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کے سامنے پہنچ گئی جہاں پرمظاہرین نے لال حویلی کا گھیرائو کر لیااورشیخ رشید کے خلاف نعرے بازی کی۔مظاہرین کے جمع ہوتے ہی پولیس اور رینجرز کے دستے بھی لال حویلی کے باہر پہنچ گئے تاہم مظاہرین لال حویلی کے باہر کافی دیر نعرے بازی کرنے کے بعد منتشر ہو گئے ۔ ہڑتال کے دوران پنجاب بھر میں پولیس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ رہی اور سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات رہی۔دوسری جانب شہداء تحفظ ناموس رسالتﷺ سے اظہاریکجہتی کے لیے آزادکشمیرکے عوام بھی سراپا احتجاج رہے ،شٹرڈائون ہڑتال کیا گیا،مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں،وکلا نے عدالتی بائیکاٹ کیا،علما، تاجر،وکلا سمیت ہر طبقہ زندگی اور تمام مکاتب فکر کے افرادکی سانحہ لاہورمیںریاستی دہشت گردی کی شدیدالفاظ میںمذمت کی ۔اس موقع پر فرانسیسی سفیر کی فوری طورپر ملک بدری کا مطالبہ کیا گیا۔ا دھرعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا عزیز الرحمن ثانی نے لاہور آپریشن کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ناموس رسالت کے لیے آواز اٹھانے والوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا،جید علمائے کرام اور سنجیدہ طبقات اس معاملے کو سلجھانے میں کردار ادا کریں،کب تک رسول اللہ ﷺکی عزت و ناموس کو روندتے ہوئے دیکھیں گے، پوری قوم انتہائی دکھ اور اضطراب میں ہے، اب مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا، اگر مغربی دنیا کو یہی کھیل کھیلنا ہے تو امت مسلمہ اس کے لیے تیار ہے اور ہم ہر کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ،ہمارے نزدیک اپنے رسول اللہ کی عزت و ناموس اول اور ہماری زندگیاں بعد میں ہیں، اگر ہمارے پیغمبر کی ناموس محفوظ نہیں تو ہمیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔