ہم پرُامن طریقے سے احتجاج ریکارڈ کرانے والوں کو نہیں روکیں گے، وزیراعلیٰ سندھ

140

اسلام آباد: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ہم پرُامن طریقے سے احتجاج ریکارڈ کرانے والوں کو نہیں روکیں گے، امن و امان کی صورتحال پیداہوئی تو حفاظتی اقدامات کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق  وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ناموس رسالتؐ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، ان خیالات کااظہار سید مراد علی شاہ نے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

سید مراد علی شاہ نے کہا ہےکہ ہم سب کے دلوں میں ناموس رسالتؐ کے لئے جوعزت اور جذبات ہیں وہ کسی سے کم نہیں ہیں لیکن ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے ایکشن کی وجہ سے کسی دوسرے انسان یا مسلمان کو تکلیف نہ ہو۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اس معاملہ پر صوبوں کو اعتماد میں لے، حکومت تمام شراکت داروں کو اعتماد میں لے کر ہی ایک بہتر حل کی طرف جاسکتی ہے، وفاقی حکومت نے مذہبی جماعت کے ساتھ معاہدہ کر کے غلط کیا، حکومت اب بھی صورتحال پر وقتی قابو پانے کے لیے ان سے معاہدہ کر لے گی اور غلط کرے گی۔

سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ وقتی فائدہ لینے کے لیے ایسی کوئی چیز نہ کریں جو ممکن نہ ہو اور اس کا بعد میں نقصان ہو، اگر کوئی پر امن احتجاج کرنا چاہتا ہے تو ہم اس کو نہیں روکیں گے جبکہ لاہور میں جو کچھ ہوا اس کے رد عمل میں ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے  اور ہم نے سندھ میں مذہبی جماعتوں سے رابطے بھی کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  ہمارے کسی بھی عمل سے دوسروں کو مشکلات نہیں ہونی چاہئیں ، کوئی شخص اپنی مرضی سے دکان بند کرنا چاہتا ہے تو اسے نہیں روکا جائے گا اورا گر کوئی پر امن احتجاج کرنا چاہتا ہے تو ہم اس کو نہیں روکیں گے، اگر امن و امان کے خطرے کی صورتحال پیدا ہوئی تو حفاظتی اقدامات کریں گے۔

دوسری جانب انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک 650 میگا واٹ بجلی وفاقی حکومت سے لیتی ہے اور اس کی ادائیگی یا تاخیر سے کرتی ہے یا کرتی ہی نہیں جس کی وجہ سے سرکولرڈیٹ کا ایشور بن جاتا ہے۔

سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ نوری آباد پاور پراجیکٹ سے 100میگا واٹ بجلی کے الیکٹرک کو فراہم کی جارہی ہے اور یہ ایک کامیاب منصوبہ ہے اور اس کی وجہ سے کراچی میں لوڈ شیڈنگ دو سے تین گھنٹے کمی سے ہوتی ہے تاہم نیب ریفرنس کی وجہ سے ہمیں پیدا ہونے والی بجلی کی ادائیگی نہیں ہورہی اور آج عدالت نے بلایا تھا اور آئندہ عدالت نے پانچ مئی کو بلایا ہے۔

واضح رہے کہ دوران سماعت سید مراد علی شاہ، خور شید انور جمالی سمیت اور دیگر ملزمان بھی عدالت میں پیش ہوئے جبکہ عدالت نے عدم پیشی پر شریک ملزم علی ظفر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرد یئے ہیں۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت پانچ مئی تک ملتوی کردی جبکہ دوران سماعت سید مراد علی شاہ نے حاضری سے مستقل استثنیٰ کی درخواست دائر کردی۔