ضلع وسطی میں جعلی دستخط کے ذریعے روڈ کٹنگ کے اجازت نامے جاری کیے جانے کا انکشاف

132

کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری) شہر کے سب سے بڑے ڈسٹرکٹ ضلع وسطی کی تباہی کا منصوبہ، تھرپارکر میں جعلی کمپنیوں کے ذریعے کروڑوں کی لوٹ مار پر نیب تحقیقات اور ضلع وسطی میں مبینہ پرائیوٹ افراد کے ذریعے آوٹ ڈور ایڈورٹائزرز سے بھاری نذرانوں کی وصولی کے سنگین انکشاف کے بعد ضلع وسطی کے او پی ایس میونسپل کمشنر محمد علی زیدی کا ایک اور اسکینڈل منظر عام پر آگیا ہے۔

ضلع وسطی میں مبینہ جعلی دستخط کے ذریعے روڈ کٹنگ کے اجازت نامے جاری کیے جانے کا انکشاف،محکمے کے اسسٹنٹ انجینئرنے کروڑوں کی بدعنوانی کا بھانڈا پھوڑ دیا، او پی ایس میونسپل کمشنر کا مبینہ لاڈلہ کہلایا جانے والا عثمان غنی نامی کلرک ایکسئن بی اینڈ آرکے جعلی دستخط کرکے اجازت نامے بانٹنے میں مبینہ ملوث نکلا۔

سنگین بدعنوانی اور جعلسازی کی تحریری شکایات جمع کرائے جانے کے باوجود او پی ایس میونسپل کمشنر نے کارروائی کے بجائے پراسرار خاموشی اختیار کرلی،کے الیکٹرک سے روڈ کٹنگ کی مد میں وصول کئے گئے54لاکھ روپے کے پے آرڈر بھی غائب ہونے کا انکشاف۔

ضلع وسطی میں بڑے پیمانے پر جاری بدعنوانیوں اور جعلسازیوں پر سینئر افسران کا نیب، اینٹی کرپشن سمیت محکمہ بلدیات کے اعلی حکام سے فوری نوٹس اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بلدیہ ضلع وسطی میں کرپشن،بدعنوانیوں کے ساتھ ساتھ جعلسازیوں کے بھی ریکارڈ توڑ دیئے گئے ہیں اس سلسلے میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک متنازعہ گریڈ14 کا عثمان غنی نامی کلرک، ایکسئن بی اینڈ آر کے مبینہ جعلی دستخط اور مہریں لگاکر کئی ماہ سے روڈ کٹنگ کے اجازت نامے جاری کرکے دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار میں مصروف ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے محکمے کے ایک اسسٹنٹ انجینئر نے تحریری شکایت29 مارچ2021 ءکو میونسپل کمشنر محمد علی زیدی کو جمع کرائی اور درخواست کے ساتھ ا س حوالے سے او پی ایس میونسپل کمشنر محمد علی زیدی سے ملاقات کرکے انہیں عثمان غنی نامی کلر ک کی سنگین جعلسازیوں سے آگاہ کیا۔

تاہم میونسپل کمشنر کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی،مذکورہ اسسٹنٹ انجینئرنے عدم کارروائی پر ایک مرتبہ پھر دوسری درخواست 6اپریل2021 ء کو تمام شواہد کے ساتھ میونسپل کمشنر کوجمع کرائی اور درخواست میں انکشاف بھی کیا گیا کہ مذکورہ عثمان نامی کلرک کا کہنا ہے کہ وہ میونسپل کمشنر کو بھاری نذرانہ دیتا ہے۔

اس لئے اس کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔مذکورہ انکشافات سے تحریری طور پر آگاہ کئے جانے کے باوجود میونسپل کمشنر محمد علی زیدی کی جانب سے جعلسازی میں ملوث کلرک کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع وسطی کے سابق ایکسئن بی اینڈ آر اعجاز شاہ کے جعلی دستخط نہ صرف این او سیز پر کئے جارہے ہیں بلکہ ملازمین کی تنخواہوں کے بلز پر بھی بوگس دستخط کئے جارہے ہیں جبکہ ایکسئن بی اینڈ آر اعجاز شاہ کا سندھ حکومت نے25 ستمبر2020 ء کوتبادلہ کرکے ڈائریکٹر کنٹریکٹ مینجمنٹ تعینات کردیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع وسطی میں ایگزیکٹیو انجینئر بلڈنگ اینڈ روڈ کے عہدے پر کوئی افسر تعینات نہیں ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مذکورہ کلرک سابق ایکسئن کے جعلی دستخط اور مہر استعمال کر کے جعلسازی میں ملوث بتایا جاتا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کے الیکٹر ک کے تقریبا54 لاکھ مالیت کے پے آرڈر جو کہ روڈ کٹنگ کی مد میں وصول کئے گئے تھے وہ بھی مبینہ طور پر غائب ہیں جس کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مذکورہ پے آرڈر کسی اور مد میں استعمال کر کے بھاری رقوم ہڑپ کرلی گئی ہے۔

ڈی ایم سی کے اندروانی ذرائع کا کہنا ہے کہ عثمان غنی نامی کلرک میونسپل کمشنر محمد علی زیدی کا لاڈلہ کلرک کہلایا جاتا ہے جسے جعلسازی اور لوٹ مار کی کھلی چھٹی دیدی گئی ہے،موجودہ صورتحال میں ڈی ایم سی کے سینئر افسران نے فوری طور پر تحقیقاتی اداروں نیب،اینٹی کرپشن سے کارروائی کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ محکمہ بلدیات کے اعلی حکام سے سخت نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔