پہلے وزیر مذہبی امور کو نکالا جائے

332

پاکستان کا حکمران طبقہ مغرب سے اس قدر خوفزدہ اور مرعوب ہے کہ اس کی جانب سے ہمارے پیارے نبی آقا اور سرکار دو جہاں کی شان میں گستاخی پر بھی ان حکمرانوں کی آواز تک نہیں نکلتی۔ جب عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں تو یہ معاہدے کرتے ہیں مطالبات تسلیم کرتے ہیں اور کسی طرح عوام کو گھر بھیجتے ہیں لیکن جوں ہی لوگ ٹھنڈے ہوتے ہیں یہ حکمران مغرب کی چاپلوسی میں لگ جاتے ہیں اب مقابلہ پاکستانی حکومت کے وزیراعظم اور وزیر مذہبی امور کے درمیان ہوگیا ہے۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ مغرب منافرت پھیلارہا ہے مغرب توہین رسالت پر سزائیں دے۔ وزیراعظم عمران خان اپنی دانست میں دور کی کوڑی لائے ہیں کہ جب ہولوکاسٹ پر منفی تبصرے کی اجازت نہیں تو ہمارے نبیؐ کی توہین کرنے والوں کے ساتھ بھی یہی معیار اپنایا جائے۔ یہ مان لیا جائے کہ کسی درجے میں وزیراعظم نے توہین رسالت پر پاکستانی مسلمانوں کی ترجمانی کی ہے لیکن اسے ہولوکاسٹ سے ملانا مناسب نہیں ہے۔ ہولوکاسٹ سراسر گھڑا ہوا فلسفہ ہے رائی کا پہاڑ ہے۔ پروپیگنڈا ہے جھوٹ کا ملمع اور طوفان ہے اسے نبی آخر الزماں کی شان کے مقابلے میں لانا بھی کم علمی کی نشانی ہے۔ وہ جس ذات کے بارے میں قرآن نے ارشاد فرمادیا کہ ’’ورفعنالک ذکرک‘‘ تو پھر اس کے بعد کسی اور سے موازنہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن پھر بھی وزیراعظم نے اتنا تو کیا کسی ملک کا نام لیے بغیر مغرب کہہ کر جاں چھڑائی اور کہا کہ ہمیں توہین رسالت برداشت نہیں مسلم جذبات مجروح کرنے پر مغربی باشندے معافی مانگیں۔ وزیراعظم صاحب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ شان رسالتؐ میں گستاخی کرنے والے افراد کی سرکاری سرپرستی صرف فرانس نے کی ہے اور انہیں فرانس کا نام لینا چاہیے تھا۔ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکال دینا چاہیے تجا جس کا ان کی حکومت نے معاہدہ بھی کیا تھا۔ اور نبی کی شان کسی معاہدے کی محتاج نہیں ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ اپنے اپنے ماں باپ اور اپنی اولاد کی جان سے زیادہ ہمیں اپنے رسولؐ کی ذات سے محبت ہونی چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان تھوڑی اور جرأت کریں مغرب کے نام میں پناہ تلاش کرنے کے بجائے براہ راست فرانسیسی حکمرانوں کا نام لیں ان کے سفیر کو گھر بھیجیں اور امت کی درست ترجمانی کریں۔ لیکن حکومت کے دل میں کیا ہے وہ عمران خان کے وزیر مذہبی امور نے بیان کردیا۔ ان کا نام نورالحق قادری ہے لیکن ان کے بیان سے ظلمات اور کذب کا دریا بہہ رہا ہے فرماتے ہیں کہ فرانسیسی سفیر کو نکالنے کا مطلب یورپ کو اپنے خلاف کرنا ہے۔ اس قدر بدبختی کی بات کہی ہے کہ ہم نے ٹی ایل کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ سفیر کی بے دخلی سے کچھ نہیں ہوگا یورپی یونین نے پابندی لگادی تو برآمدات آدھی رہ جائیں گی۔ نورالحق صاحب ذرا بتائیے نبی کی ناموس کا سودا برآمدات سے کرو گے اس قدر بے شرمی اور ڈھٹائی ہے کہ کھل کر کہا جارہا ہے کہ نبی کی شان میں گستاخی کرنے والی حکومت کے سفیر کو نکالا تو برآمدات آدھی رہ جائیں گی۔ ذرا بتایا جائے کہ سفیر کو نہ نکالنے سے کتنی برآمدات بڑھ گئیں۔ امت مسلمہ ایسی برآمدات پر سو بار لعنت بھیجتی ہے جو نبی کی شان میں گستاخی برداشت کرکے حاصل ہو۔ نور الحق قادری کی گمراہی کی باتوں میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک ملک کے آواز اٹھانے سے کچھ نہیں ہوگا دس پندرہ ممالک مل کر آواز اٹھائیں تو اثر ہوگا۔ یہ خوف زدہ وزیر یہ ڈرپوک حکمران ایسے سو حکمران اور سو ممالک بھی جمع ہوجائیں تو ایک آواز نہیں اٹھا سکتے۔ ان کے مطالبات بھی عمران خان کے جملوں کی طرح پھس پھسے ہوں گے۔ مغرب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ توہین رسالت کی سرکاری سرپرستی مغرب نام کے کسی ملک نے نہیں فرانس نے کی ہے۔ اور عمران خان مغرب کی رٹ لگائے ہوئے ہیں لیکن اس وقت تو فرانسیسی سفیر سے پہلے وزیر مذہبی امور کو وزارت بلکہ ملک سے نکالنا ضروری ہوگیا ہے۔ ان کی حالت تو یہ ہوگئی ہے کہ ان کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
اس وزیر کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کس ہستی کے بارے میں کیا کہہ رہا ہے کس حقیر چیز سے اس اعلیٰ ترین ذات کی ناموس کا سودا کررہا ہے۔ یہ معاملہ صرف تحریک لبیک کا نہیں ہے بلکہ امت مسلمہ کا ہے۔ یہ تو اسٹیبلشمنٹ ہے جوایسے متفقہ مسئلے کو کسی ایک گروہ کے ساتھ نتھی کرکے امت مسلمہ کو اس سے الگ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس وقت تو پوری امت کو صرف نبی کے جھنڈے تلے مجتمع ہو کر ناموس رسالتؐ کی پاسداری کرنی چاہیے۔ یہ جو کچھ فضول گوئی وزیر مذہبی امور نے کی ہے اس کے بعد وزیراعظم انہیں کابینہ سے فارغ کریں۔ جب اپنے نااہل وزیروں کو ایک وزارت سے دوسری وزارت میں بھیجا جارہا ہے تو کم از کم ناموس رسالت سے لاعلم وزیر کو تو کابینہ سے باہر کیا جائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ کام کرے گا کون۔ وزیراعظم کو اس بات کا کون سا علم ہے کہ نبی کی شان کیا ہوتی ہے اور ہماری ذمے داری کیا ہوتی ہے۔ لہٰذا پھر مجبوری ہے، یہ کام عوام ہی کو کرنا ہوگا۔ پھر اس راستے میں جو آئے اسے بھی اٹھا کر پھینکنا ہوگا۔ لیکن اب یہ زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ پہلے پاکستانی حکومت میں سے ایسے بے ہودہ لوگوں کا صفایا کیا جائے اگر حکومت رکاوٹ بنے تو اس کا بھی صفایا کیا جائے اور اگر سلیکٹرز بھی آڑے آئیں تو ان کو بھی مزا چکھنا ہوگا۔ امت مسلمہ جن مسائل سے نبرد آزما ہے ان سب کا سبب بھی یہی ہے کہ ہمارے حکمراں ہر میدان میں اللہ اور اس کے رسولؐ سے بغاوت پر اُترے ہوئے ہیں۔ سود کو اللہ نے حرام کیا اور اس پر اصرار کرنے والوں کے بارے میں کہا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ کے لیے تیار ہوجائیں۔ یہ حکمراں مسلسل سود کے معاملے میں اللہ اور رسول سے جنگ میں مصروف ہیں، نتیجہ دیکھ لیں۔ ملک کی معیشت کا بیڑا غرق ہوچکا ہے، چینی، گندم اور آٹے کا بحران ہے۔ مہنگائی ہے بیروزگاری ہے تجارت ختم ہے دنیا میں کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے نام پر محاصرہ کیا جارہا ہے۔ ہر آنے والے دن قرضے بڑھ رہے ہیں ہر قرضے کے ساتھ قرض دینے والوں کی شرائط میں اضافہ ہورہا ہے۔ کون سا شعبہ ہے جو ترقی کررہا ہے سوائے باتوں کے، ہمارے وزیراعظم ریاست مدینہ اور گھبرانا نہیں کی رٹ لگائے رہتے ہیں۔ اپنی کابینہ کے وزیروں کو کبھی کسی وزارت میں کبھی کسی وزارت میں کھپایا جارہا ہے لیکن نااہلوں کے ٹولے کو کسی بھی شعبے میں بٹھادیا جائے یہ کچھ نہیں کرسکیں گے۔ اگر وزیراعظم فرانسیسی حکومت کی جانب سے توہین رسالت پر مغربی باشندوں کو مورد الزام ٹھہرارہے ہیں تو پھر اپنے وزیر مذہبی امور کی توہین آمیز باتوں پر ان کی پوری حکومت ذمے دار ہے وہ معافی بھی مانگیں اور نورالحق قادری کو اس منصب سے فارغ کریں۔ ایسے رویے پر اگر عوام سڑکوں پر آجائیں تو اسے بھارتی سازش کا احمقانہ فلسفہ تھوپ کر منہ نہیں چھپایا جاسکتا۔ کیا نورالحق قادری کا بیان بھی بھارتی سازش ہے جس پر ردعمل آئے گا اور انہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔