ایڈمنسٹریٹر کراچی نے عدالتی احکامات ہوا میں اُڑا دیے

52

کراچی(اسٹاف رپورٹر) ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی لئیق احمد نے عدالتی احکامات ہوا میں اُڑا دیے، عدالتی احکامات کے برخلاف مختلف عہدوں پر من پسند او پی ایس افسران تاحال براجمان ہیں،سینئر افسران نے چیف جسٹس سندھ سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر ایڈمنسٹریٹر کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلانے کی اپیل کر دی۔ تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی میں عدالتی احکامات کے برخلاف اب تک مختلف پرکشش آمدنی والے عہدوں پر ایڈمنسٹریٹر کے چہیتے افسران براجمان ہیں جبکہ حکومت سندھ نے عدالتی احکامات کے بعد کے ایم سی حکام کو ایک مراسلے کے ذریعے فوری طور پر ایک سے زائد عہدوں پر تعینات سے ایک عہدہ واپس لینے کے ساتھ ساتھ تمام او پی ایس افسران کو عہدوں سے فارغ کرنے کے احکامات دیے تھے ،تاہم ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی لئیق احمد نے عدلیہ اور حکومت سندھ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے چند افسران کو عہدوں سے فارغ کرنے کے احکامات جاری کیے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام افسران تاحال انہیں عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ کے ایم سی افسران کے مطابق افضل زیدی تاحال میونسپل کمشنر کے ایم سی کے اضافی عہدے پر کام کر رہے ہیں جبکہ وہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کلک کے عہدے پر تعینات ہیں، اسی طرح گریڈ 18کے طلحہ سلیم ہٹائے جانے کے بعد بھی ڈی جی پارکس گریڈ 20اور ڈائریکٹر پارکس گریڈ 19کے کے عہدے پر کام کر رہے ہیں۔ گریڈ 18کے عمران صدیقی کو گریڈ 19کا پی ڈی بس ٹریمنلز اور ایڈیشنل چارج ڈائریکٹر اسٹیٹ پر بدستور موجود ہیں۔ طارق صدیقی ایڈیشنل ڈائریکٹر ہونے کے باوجود ڈائریکٹر لینڈ کے فرائض تاحال ادا کر رہے ہیں۔ اصغر درانی سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم کے علاوہ ڈائریکٹر پے رول کا اضافی چارج تاحال اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔