جماعت اسلامی کی حرمت رسول کیلئے نکلنے والوں پر ظالمانہ تشدد کی مذمت

300

لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے حکومت کی طرف سے ایک سیاسی جماعت سے کیے گئے معاہدہ پر عملدرآمد نہ کرنے کے بعد پیدا ہونے حالات اور جانی ومالی نقصان پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

منصورہ میں جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیرالعظیم، نائب امیر ڈاکٹر فرید پراچہ اور سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کو فرانس کے سفیر کی معاہدہ کے مطابق ملک بدری کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کے خلاف بلاجواز طاقت کے استعمال کرنے اور پولیس کی جانب سے ان پر سیدھی گولیاں چلانے کے عمل کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ لاہور میں پیدا شدہ صورتحال، جو لال مسجد کے واقعہ سے مماثلت رکھتی ہے کہ فوری بعد انہوں نے وزیرداخلہ شیخ رشید اور وزیر دفاع پروز خٹک سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے انہیں عوام کے جذبات سے آگاہ کیا اور رمضان کے مبارک مہینہ میں تشدد اور خونریزی کو بند کرنے کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے اس امر پر حیرانی کا اظہار کیا کہ حرمت رسول ﷺ کے تحفظ کے لیے نکلنے والوں کے خلاف حکومت کس ایما پر اور کن کو خوش کرنے کے لیے گولیاں چلوا رہی ہے۔ حکومت نے خود سیاسی جماعت سے معاہدہ کیا جس میں بیس اپریل تک فرانس سے تعلقات منقطع کرنے کا وعدہ کیا مگر اب وعدہ کی یاد دہانی پر لوگوں کے خلاف ظالمانہ تشدد کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت وعدوں کی پاسداری کرے اور مسلمانان پاکستان کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچائے۔ حکومت معاہدہ کو وعدہ کے مطابق اسمبلی میں لائے۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی پاسداری کے لیے حکومت اس حد تک نہ جائے کہ اپنے ہی لوگوں پر تشدد پر اتر آئے۔

سراج الحق نے سعدحسین رضوی اور مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والے افراد کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا،انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ایک سیاسی جماعت پر پابندی سمجھ سے بالاتر ہے،خود ایک سیاسی فریق ہوتے ہوئے حکومت کسی پارٹی کو کیسے بین کرسکتی ہے،انہوں نے کہا کہ کسی پارٹی کو کالعدم قرار دینے کا کام الیکشن کمیشن یا عدالت کا ہے۔

انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ معاملہ کو افہام تفہیم سے حل کرے،چند جذباتی نوجوانوں کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ کے عمل کی حمایت نہیں کی جاسکتی مگر اس کی آڑ میں ان پر گولیاں چلانا اور اسے ریاست پر حملہ قرار دے کر انا کا مسئلہ بنانا درست اقدام نہیں۔

 سراج الحق نے کہا کہ انہوں نے ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ صاحبزادہ ابولخیر زبیر، مفتی منیب الرحمن اور دیگر علما سے رابطے کیے ہیں اور اس سلسلہ میں علما ء کا ایک اجلاس پیر کو منصورہ میں بلایا ہے تاکہ افہام و تفہیم سے مسئلہ کا حل نکالا جائے۔

امیر جماعت نے کہا کہ جس طرح مغرب کی طرف سے حرمت رسول ﷺپر سوچے سمجھے منصوبہ کے ذریعے اشتعال انگیز حملے ہورہے ہیں اور فرانس میں تو اس عمل کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے،مسلمانوں کے جذبات سمجھ سے بالاتر نہیں۔

 نبی رحمت ﷺکی ہستی تمام مسلمانوں کے لیے ان کی جان مال، والدین، اولاد سے زیادہ عزیز ہے ان کی گستاخی کسی صورت قبول نہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالنے میں کوئی ہرج نہیں تاکہ پونے دو ارب مسلمانوں کے جذبات کو تسکین مل سکے۔