کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج سنگین انتظامی بحران کا شکار

181

کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری) کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کی غیر قانونی ایگزیکٹو کمیٹی نے کالج کو سنگین انتظامی بحران میں مبتلہ کردیا، ایدمنسٹریٹر کی ہٹ دھرمی کے باعث 10روز گذرجانے کے بعد بھی نہیں کھل سکا، ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کی اقرباء پروری ملازمین کو کے ساتھ زیادتیوں اور حراسان کرنے پر ملازمین سراپا احتجاج، ایدمنسٹریٹر کراچی نے معاملات درست کرنے کے بجائے غیرقانونی ایگزیکٹو کمیٹی کو سیاہ وسفید کا مالک بنا دیا۔

تفصیلات کے مطابق میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کا غیر تدریسی عملہ کے ایم سی حکام اور کالج کی غیر قانونی ایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے غیر تدریسی عملے کے ساتھ ہتک آمیز رویے، حراساںکرنے اور تنخواہوں کی اضافے کے ساتھ بروقت ادائیگی کے لئے گزشتہ 12روز سے سراپا احتجاج بننے ہوئے ہیں تاہم حکام کی جانب سے ملازمین کے مسائل اور مشکلات کے حل کے لئے اقدامات کرنے کے بجائے ملازمین کو ہی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے ایڈمنسٹریٹر کی اقرباءپروری کے باعث کالج سنگین انتظامی بحران میں مبتلہ ہونے کے ساتھ ملازمین اور افسران دو مخالف گروپس میں تقسیم ہوگئے ہیں جبکہ ایڈمنسٹریٹر کراچی معاملات درست کرنے کے بجائے کالج کے انتظامی اور مالی وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے غیر قانونی ایگزیکٹو کمیٹی کی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے ملازمین کے ساتھ ساتھ مختلف عہدوں پر تعینات افسران کو نا صرف عہدوں سے ہٹانے اور افسران پر دباﺅ ڈال کر من مانے فیصلوں کی توثیق کرانے میں مصروف ہیں۔

اس ضمن میں کے ایم ڈی سی ایمپلائز یونین کا کہنا ہے کہ گزشتہ 10 دن سے پر امن احتجاج پر ہیں اس احتجاج کا مقصد غیر تدریسی عملے کو2020میں ملازمین کی تنخواہوں میں10% اور2019میں جو 15فیصد اضافہ کیا گیا تھا کہ کے واجبات، تنخواہ کی بروقت ادائیگی، تنخواہ کو پیرول پر لانے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن کچھ سازشی عناصر نے اس پر امن احتجاج کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی اور یونین کے صدر اور دیگر ملازمین سے ہتک آمیز رویہ اختیار کیا اور انہیں اپنے رشتہ دار ایڈمنسٹریٹر کی دھمکیاں دیں اور گرفتار کروانے کی دھمکیاں دی جس سے کالج میں شدید تناؤ پیدا ہوگیا اور اگلے روز کالج کو تالا بند کر کے تمام عملے بشمول پرنسپل کےایم ڈی سی تمام کا داخلہ بند کردیا۔

کالج میں تدریسی عمل معطل کردیا جس سے اسٹوڈنٹس کا مستقبل خطرے میں ہے اور ساتھ ہی غریب ملازمین کو تنخواہ سے محروم رکھنے سے اسٹاف میں بے چینی پائی جاتی ہے آج اس تالابندی کو 12 دن ہو چکے ہیں ,کے ایم ڈی سی ایمپلائز یونین کے صدر ندیم زیدی نے کہا کہ انتظامیہ کی بے حسی پر افسوس ہے انہوں نے کہا کہ کربلا میں ظالموں نے معصومین کا پانی بند کر دیا تھا اور کے ایم ڈی سی انتظامیہ نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے رمضان المبارک میں غریب ملازمین کو ان کی تنخواہ سے محروم کردیا۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم اسٹاف کی دادرسی کے لئے کسی بھی پلیٹ فارم تک جائیں گے اور اسٹاف کو ان کے حقوق حاصل ہونے تک پرامن قلم چھوڑ ہڑتال جاری رہے گی۔