قبلہ اول کے بعد مسجد ابراہیمی کی توہین ، رقص و سرور کی محفل

188
مقبوضہ بیت المقدس: ہزاروں مسلمان مسجد اقصیٰ میں رمضان المبارک کا پہلا جمعہ ادا کررہے ہیں‘ مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج قبلہ اول پہنچنے سے روک رہی ہے

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین کی تاریخی مسجد ابراہیمی میں شر پسند یہود کی جانب سے رقص و سرود کی محفل کے انعقاد پر مسلمانوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اسرائیلی حکومت اور فوج کی سرپرستی میں باقاعدہ سازش کے تحت یہودی شرپسندوں کو مسلمانوں کو مشتعل کرنے اور ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ الخلیل شہر میں واقع مسجد ابراہیمی میں اسرائیلی فوج کی سیکورٹی میں یہودی داخل ہوئے۔ اس دوران انہوں نے مقدس مقام کی توہین کرتے ہوئے کھلے عام شراب نوشی کی اور رقص کرکے مسلمانوں کو اشتعال دلاتے رہے۔ یہودیوں کی اشتعال انگیز پارٹی کے دوران مسجد کو چاروں طرف سے اسرائیلی فوج نے گھیرے میں لیے رکھا تھا اور کسی فلسطینی کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ شرپسندوں نے موسیقی کے لیے مسجد کے لائوڈ اسپیکر استعمال کیے، جس کے باعث گانوں کی آواز دور دور تک سنائی دیتی رہیں۔ صہیونی حکام فلسطینی نمازیوں اور روزے داروں کو مسجد ابراہیمی میں جانے کے لیے نئے نئے حربے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ اس سے قبل مارچ میں اسرائیلی فوج نے مسجد ابراہیمی میں 59 بار اذان دینے پر پابندی عائد کی۔دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کی مداخلت کو مجرمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔ جدہ میں تنظیم کے صدر دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نمازیوں پر اسرائیلی فوج کا تشدد، مسجد کے درازوں کی توڑپھوڑ، اذان دینے اور نماز سے روکنے کے علاوہ لائوڈ اسپیکروں بند کرنے جیسی کارروائی کسی طور برداشت نہیں کی جاسکتیں۔ بیان میں اسرائیلی فوج کی قبلہ اول پر جارحیت کو خطرناک قراردیتے ہوئے صہیونی ریاست پر زور دیا گیا کہ وہ مقدس مقامات کی حرمت اور عبادت گاہوں میں مذہبی آزادیوں کویقینی بنائے۔ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں اور نمازیوں پر تشدد بین الاقوامی انسانی حقوق، عالمی قوانین، جنیوا معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔او آئی سی نے اسرائیل کو مسجد اقصیٰ میں پیش آنے والے تمام اشتعال انگیز واقعات کا ذمے دار قرار دیا۔ بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ اسرائیل کو فلسطینیوں اور مقدس مقامات پر حملوں سے روکنے کے لیے دباؤ بڑھائے۔