ٹی ایل پی پابندی غیر قانونی ہے؟

300

شیخ رشید نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی پر پابندی ان کے کردار کی وجہ سے لگائی گئی ہے ان کے ساتھ معاہدہ میں نے نہیں اعجازشاہ نے کیا تھا ہم مسودے کے معاملے کو لیکر آگے بڑھ رہے ہیں، ٹی ایل پی والوں سے مسودے پر 2دن بات چیت ہوتی رہی وہ ایسا مسودہ چاہتے تھے جو کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا تھا۔ شیخ رشید نے کہا کہ سڑکوں پر کیا ہو رہا تھا پوری دنیا نے دیکھ لیا، صورتحال خرابی کی طرف جارہی تھی پابندی لگانا ضروری تھا، اسپتالوں پر حملے کیے گئے ایمبولینس روکی گئیں، مریضوں کو آکسیجن نہیں مل رہی تھی۔
شیخ صاحب نے اور بھی بہت ساری شیخیاں بکھاریں لیکن نجانے کیوں بہت کچھ بولنے کے باوجود شیخ صاحب اس بات کا جواز پیش کرنے میں یکسر ناکام نظر آرہے تھے کہ کسی تنظیم پر پابندی کے قوانین کیا ہیں۔ اسی لیے وزارت قانون کی جانب سے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ٹی ایل پی پر پابندی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت قانون کی رائے میں تحریک لبیک پر پابندی کا معاملہ الیکشن کمیشن کا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اجلاس میں تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے قومی اسمبلی میں قرارداد لانے پر بھی غور ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندی ان کے کردار کی وجہ سے لگائی گئی ایسا تو پاکستان میں ہوتا ہی رہتا ہے کہ کسی اچھے کردار کی وجہ سے عملی طور پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ وزارت ِ قانو ن نے پابندی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
ماضی میں بھی ایسے الزامات منظر عام پر آتے رہے ہیں لیکن کیا صرف مخصوص سیاسی جماعتوں ہی کا شدت پسند کالعدم تنظیموں کے ساتھ تعلق رہا ہے اور آخر ایسی کیا مجبوری ہے جس کے تحت بڑی سیاسی جماعتوں کو ان سے رجوع کرنا پڑتا ہے؟ کیا اس کی وجہ یہ نہیں ہے کالعدم پارٹیوں میں بد کرداری کم ہی کم نظر آئی۔ یہی وجہ ہے کہ کسی نہ کسی وقت تمام بڑی پارٹیوں کا کالعدم تنظیموں کے ساتھ اتحاد رہا ہے اور یہ کہنا درست ہو گا کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر چودھری نثار علی خان اپنے دورے وزارت میں کالعدم اہل سنت و الجماعت کے رہنما مولانا احمد لدھیانوی سے ملاقات کرتے نظر آئے اور اپنی وقتی سیاسی ضروریات اور مصلحت کے تحت ان کے ساتھ تعلق رکھتی رہی ہیں۔ ماضی میں مختلف سیاسی جماعتیں سپاہ صحابہ اور تحریک جعفریہ کی حمایت طلب کرتی رہی ہیں۔
انفرادی سطح پر ہر حلقے کے اندر لوگ کوشش کرتے ہیں کہ انہیں مؤثر اور بااثر شخصیات کی حمایت حاصل ہو خواہ وہ پیپلز پارٹی کے ہوں، پی ایم ایل این کے یا پی ٹی آئی کے لیکن گزشتہ الیکشن میں ہم نے جماعتی سطح پر کوئی ایسا اتحاد نہیں دیکھا۔ اس طر ح پاکستان کی تقریباً تمام نمایاں جماعتوں کے کالعدم تنظیموں سے بڑے قریبی تعلقات ہیں۔ مولانا احمد لدھیانوی نے 2018ء میں ضلع جھنگ کے حلقہ این اے 115 سے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور جماعت الدعوہ کے کارکنان مسلم لیگ نون کو ووٹ دیتے رہے ہیں جبکہ انتخابات کے دوران سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں موجود کالعدم اہلسنت والجماعت کے دفتر کا دورہ کیا تھا۔
پیپلز پارٹی اپنے آپ کو ہمیشہ ہی ایک سیکولر پارٹی کے طور پر پیش کرتی رہتی ہے لیکن ماضی میں اہلسنت والجماعت کے رہنما مولانا احمد لدھیانوی نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ 2008ء کے الیکشن میں ان کی جماعت نے پیپلز پارٹی کے 18 امیدواروں کی حمایت کی تھی ’ان میں قمر زمان کائرہ جیسے بڑے نام بھی شامل تھے‘۔ انتخابات کے دوران سیاسی پارٹیوں کے لیے سو دو سو ووٹ بھی بہت اہم ہوتے ہیں اور وہ ان کالعدم جماعتوں سے لیے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کالعدم جماعتیں زیادہ منظم ہوتی ہیں لہٰذا یہ ان کی مجبوری بن جاتی ہے کہ وہ ان (کالعدم) جماعتوں کے پاس جائیں۔ جہاں تک بات ان کے فرقہ وارانہ جماعتوں سے تعلق کی ہے تو پاکستان کے پہلے جمہوری دور میں یعنی 1988 سے 1999 میں سپاہ صحابہ کے منتخب ہونے والے لیڈروں کو پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل تھی۔
کالعدم جماعتوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے تحت حکومت نے ان کے زیر انتظام مساجد و مدارس کو اپنے کنٹرول میں لینا شروع کر دیا ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ ریاست مساجد و مدارس کو ہمیشہ ہی اپنا دشمن سمجھتی ہے لیکن یہ بھی ایک ناقابل ِ تردید حقیقت ہے بیرونی حملوں اور قدرتی آفات کے دور میں فوج اور یہی کالعدم تنظیمیں عوام کی خدمت کرتی نظر آتی ہیں۔ پیپلز پارٹی سمیت اے این پی اور ایم کیو ایم وہ تین جماعتیں جو تواتر سے اقتدار میں بھی ہیں اور یہ تینوں ملک کی فوج کو خلاف زہر افشانی بھی کرتی ہیں لیکن کسی حکومت کو ان سے کبھی ملک کی بقا اور سلامتی کو خطرہ نظر نہیں آتا اور اسٹیبلشمنٹ بھی ان کو راضی رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔
ایک سوال یہ بھی کیا جارہا ہے ٹی پی ایل کے ارکان ِ قومی اور صوبائی بھی کالعدم ہو جائیں گے بعض ماہرین ِ قانون کا خیال ہے کہ قانونی طور پر محض مقدمات یا فورتھ شیڈول میں نام شامل ہونے کی وجہ سے کسی شخص کو انتخابات میں حصہ لینے سے نہیں روکا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کالعدم تنظیموں سے منسلک ہونے یا ان کا رکن ہونے کے باوجود ان رہنماؤں کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل جاتی ہے۔ فورتھ شیڈول انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت ترتیب دی جانے والی وہ فہرست ہے جس میں ان شخصیات کے نام شامل کیے جاتے ہیں جن کے بارے میں دہشت گرد یا فرقہ وارانہ کارروائیوں یا جماعتوں کے ساتھ تعلق ہونے کی حکومت کو اطلاع یا شبہ ہو۔ یہ فہرست انسدادِ دہشت گردی کے قانون کی شق 11 ای ای کے تحت ترتیب دی جاتی ہے۔ ٹی ایل پی پر پابندی سے قبل اس فہرست میں تاحال سات ہزار سے زیادہ افراد اس شیڈول میں شامل ہیں۔ ان افراد کی حرکات و سکنات پر مسلسل نظر رکھی جاتی ہے اور ان کے بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ان کو کئی پابندیوں کا سامنا ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق تنظیم کو تو کالعدم قرار دیا جاتا ہے تاہم اس کے ارکان کو کالعدم قرار نہیں دیا جاتا۔ اس لیے ان افراد کے انتخابات میں حصہ لینے پر کوئی بار نہیں۔
وہ تما م تنظیمیں جن کو پاکستان میں کالعدم قرار دیاگیا ان میں اکثریت ان تنظیموں کی ہے جن پر بھارت امریکا اور یورپی ممالک دہشت گردی کا الزام لگاتے رہے ہیں اس کے برعکس ان تنظیموں کا پاکستان میں ہر طرح کا ریکارڈ بہت صاف اور انسانی خدمت مالامال ہے لیکن پاکستان کی مذہبی جماعتوں کا یہ جرم پوری دنیا میں نمایاں ہے کہ دنیا میں ہر جگہ ہو نے والے توہین ِ رسالت کے خلاف سب سے بڑا مظاہرہ صرف صرف پاکستان میں ہوتا ہے اور یہی جرم ٹی پی ایل کا بھی ہے عالمی اسٹیبلشمنت کو خوش کرنے لیے پابندی لگائی گئی ہے۔ اسی لیے وزارت ِ قانون نے اس کی مخالفت کی ہے۔